شمالی کوریا کے اندر کے حالات پر عام شہریوں کی بات کرنے کی جرات

شمالی کوریا میں عام شہریوں سے بات کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ یہاں جانے والے غیر ملکیوں پر پولیس کا سخت پہرہ ہوتا ہے اور ان کے بیرونی دنیا سے رابطوں کو بلاک کیا جاتا ہے۔
لیکن دو شہریوں نے زندگی کو لاحق خطرات اور جیل جانے کے خدشات کے باوجود بی بی سی کے وکٹوریا ڈربی شائر پروگرام میں بات کرنے کی ہامی بھر لی۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کا درجہ تقریباً خدا کے برابر تصور کیا جاتا ہے اور یہاں بہت سے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان کے بارے میں بلند آواز میں سوال کیا جا سکے۔
شہری یہ سمجھتے ہیں کہ کم جونگ اُن کو سب کے بارے میں معلوم ہوتا ہے اور انھیں انحراف کرنے والوں کے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں جن میں ان کے اپنے خاندان کے افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔
مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے سن ہوئی ( فرضی نام) جانتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
سن ہوئی کے مطابق زیادہ تر لوگ کم جونگ ان پر کاروباری ہونے پر تنقید کرتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہماری طرح کے کام کرتا ہے لیکن ہماری ہی رقم لے لیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے قد کا یہ آدمی اپنے دماغ کو ویمپائر (خون چوسنے والی چمگادڑ) کی طرح ہمارے پیسے کو ہڑپ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
شمالی کوریا کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کا پروگرام کئی ماہ سے شمالی کوریا کے عام شہریوں سے سوالات کرنے کے لیے رابطوں کا ایک خفیہ نیٹ ورک استعمال کر رہا تھا اور اب بی بی سی نے ان کے نام خفیہ رکھنے اور شناخت ظاہر نہ ہونے کے حوالے سے اقدامات کیے ہیں۔
اگر شمالی کوریا کی حکومت کو سن ہوئی کی شناخت کے بارے میں معلوم ہو جائے تو اس صورت میں انھیں متعدد الزامات میں سزا کا سامنا ہو گا جس میں سخت ترین لیبر کیمپ میں عمر قید کا سامنا اور سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
نہ صرف ان کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ان کے خاندان کی تین نسلوں کو بھی جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سن ہوئی اپنے خاوند اور دو بیٹیوں کے ساتھی رہتی ہیں۔ اگر کاروبار اچھا ہو تو تین وقت کا کھانا کھاتی ہیں لیکن اچھا نہیں ہوتا تو چاولوں میں مکئی ملا کر کھاتی ہیں۔
بازار جہاں وہ کام کرتی ہیں، وہاں پر کھانا، سمگلنگ کی الیکڑانک مصنوعات جیسی چند ایک اشیا ہیں جنھیں فروخت کیا جا سکتا ہے۔
روزنامہ این کے مطابق ملک میں 50 لاکھ لوگوں کا براہ راست یا بالواسطہ ایسے بازاروں پر انحصار ہوتا ہے۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں قائم میڈیا کا ادارہ شمالی کوریا کے اندر کی زندگی کے بارے میں رپورٹیں دیتا ہے اور اس نے شمالی کوریا کے اندر موجود اپنے نیٹ ورک کے ذریعے بی بی سی کے وکٹوریا ڈربی شائر پروگرام کی مدد کی۔
سن ہوئی نے بتایا کہ ایسے بازاروں میں بععض اوقات سینکڑوں دکانیں ہوتی ہیں اور یہ چغل خوری اور افواہوں کے فروغ کے مقام بھی ہوتے ہیں۔
’میں نے بازار میں سنا کہ امریکی صدر آ رہے ہیں۔ لوگ اس ملاقات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن ہر ایک امریکہ کو ناپسند کرتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہماری غربت کی زندگی کا ذمہ دار امریکہ ہے کیونکہ اس نے ہمیں (جنوبی کوریا) سے علیحدہ کر دیا اور اس سے بالکل کاٹ کر رکھا دیا ہے۔‘
شمالی کوریا میں معلومات کی ترسیل کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہاں پر امریکہ اور ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کے بارے میں شدید پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
سن ہوئی کے مطابق حالیہ عرصے میں چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں جنوب کے ساتھ ہونا چاہیے اور حال ہی میں کہنا شروع کیا ہے کہ ہمیں امریکہ کے ساتھ پرامن طریقے سے رہنا چاہیے اور ہر ایک کی اچھی زندگی ہونی چاہیے۔

شمالی کوریا کی فوج میں کام کرنے والے چؤل ہؤ (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی سے امید بہت سادہ ہے، اور وہ یہ کہ بغیر کسی عداوت کے، اور مرنے تک بغیر بیمار ہوئے اچھی زندگی گزرے۔
وہ امید کرتے ہیں کہ اسے طرح کی زندگی ان کے والدین اور بچوں کے نصیب میں ہو۔
چؤل ہؤ نے بھی بی بی سی کے وکٹوریا ڈربی شائر پروگرام میں خفیہ بات چیت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر اختلافات ہیں جس میں لوگ اپنی روزہ مرہ زندگی کے بارے میں شکایات کرتے ہیں۔
بعض لوگ’ غلط کاموں‘ پر ریاست کے سکیورٹی ادارے کے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں۔ لوگ اچانک غائب ہو جاتے ہیں لیکن ایسا حالیہ عرصے میں نہیں ہوا ہے۔

جن لوگوں کے بارے میں چؤل بات کر رہے ہیں انھیں اکثر ملک کے جیل کیمپوں میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں کے بارے میں اطلاعات دی جاتی ہیں کہ قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور انھیں اپنے قبریں خود ہی کھودنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ریپ کو سزا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
حقوق انسانی کی تنظیم ایمنیسٹی کے مطابق اس طرح کے کیمپوں میں ایک وقت میں 20 ہزار تک قیدی موجود ہو سکتے ہیں۔
سن ہوئی کے مطابق ان کیمپوں کی ’دہشت‘ ہے جس سے معاشرہ چلتا ہے اور جہاں وہ رہتی ہیں وہاں بہت سارے لوگوں کو حکومت نے پکڑا ہے۔
چؤل ہؤ کو یقین ہے کہ بعض لوگوں کو بیؤبو (کیمپ) میں اس وجہ سے بھیجا گیا تاکہ افسران اپنی کاررکردگی کے بارے میں کہانیاں بنا سکیں۔
وہ لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ چین جانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور پھر ان کے بارے میں رپورٹ کر دی جاتی ہے۔
ملک میں سمگل کیے جانے والی فلمیں اور ٹی وی شو دیکھنے کے جرم میں ملک کے لیبر کیمپوں میں دس برس تک قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شمالی کوریا کے بارے میں مزید پڑھیے
شمالی کوریا کی حکومت غیر ملکی میڈیا کے بارے میں سخت کریک ڈاؤن کرتی ہے کیونکہ یہ مواد مغرب کے خلاف پروپیگنڈے کو نقصان پہنچتا ہے۔ بہت سارے افراد چین سے یو ایس بی اور ڈی وی ڈی کے ذریعے ایسے مواد کو ملک میں سمگل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
سن ہوئی کے مطابق جنوبی کوریا کی چیزیں سب سے زیادہ مقبول ہیں اور وہ خود تسلیم کرتی ہیں کہ انھوں نے خود کوریا کے ڈرامے اور غیر ملکی فلمیں رات کو دیکھ رکھی ہیں لیکن ان چیزوں کے خلاف کریک ڈاؤن بہت سخت ہے۔
میں نے سن رکھا ہے کہ ایسا مواد برآمد ہونے پر بھاری رشوت دینا پڑتی ہے لیکن لوگ پھر بھی اس کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
’اس کو سمجھنا بہت آسان ہے کیونکہ لوگوں کو جنوبی کوریا کی زندگی کے بارے میں تجسس ہے۔‘
لیکن شمالی کوریا میں ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو بیرونی دنیا کی جھلک دیکھ سکتے ہیں اور بہت سارے یہ جانتے ہیں کہ وہ کس طرح سے اس کو محسوس کرتے یا سمجھتے ہیں۔

چؤل ہؤ نے تسلیم کیا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کو لوگ کس طرح پسند کرتے ہیں اور باہر کی دنیا کیا رائے رکھتی ہے کیونکہ وہ صرف شمالی کوریا کے لوگوں سے ہی ملے ہیں، لیکن اس کے ساتھ اصرار کیا کہ ویسے تو زندگی مشکل ہے۔۔۔ (لیکن) ہمارے لوگ اچھے ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ ہمسائے ہمارے کزنز سے اچھے ہیں اور جب بھی ہمارے ہمسایوں کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ہم ان کی طرف جاتے ہیں۔
شمالی کوریا کے بعض علاقوں میں رہائشی اپنی جان خطرے میں ڈال کر منحرف ہو کر چین کے ذریعے جنوبی کوریا چلے جاتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ایسے واقعات میں کمی آئی ہے کیونکہ سرحدی سکیورٹی میں اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ایک متنازع معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت چین میں پکڑے جانے والوں کو واپس شمالی کوریا کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔











