شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ 12 جون کو ملاقات اب بھی ہو سکتی ہے: ٹرمپ

صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اگلے ماہ کی 12 تاریخ کو ملاقات اب بھی ممکن ہے۔

ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طے شدہ ملاقات یہ کہہ کر منسوخ کر دی تھی کہ اس وقت ملاقات کرنا نامناسب ہو گا۔

امریکی صدر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہو گا۔ یہ 12 کو بھی ہو سکتی ہے۔ ہم ان سے بات کر رہے ہیں اور وہ زیادہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہو اور ہم بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شمالی کوریا سے خوشگوار اور کارآمد بیان کا آنا بہت اچھی خبر ہے۔ ہم جلد ہی دیکھیں گے کہ مزید کیا پیش رفت ہوتی ہے، امید ہے کہ یہ راستہ طویل اور پائیدار خوشحالی اور امن کی طرف جائے گا۔ صرف وقت (اور ٹیلنٹ!) بتائے گا۔ ‘

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر کے بیان سے پہلے شمالی کوریا نے امریکی صدر کی جانب سے دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات منسوخ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے کم جونگ ان کو لکھے گئے خط میں انھوں نے کہا گیا تھا کہ 'میں آپ کے ساتھ ملاقات کا متمنی تھا۔ لیکن افسوس ہے کہ آپ کے حالیہ بیان میں پائی جانے والی شدید مخاصمت سے مجھے لگتا ہے کہ اس وقت یہ ملاقات نامناسب ہو گی۔

ادھر شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی خواہشات کے مطابق نہیں تھا۔ اور یہ کہ کم جونگ ان نے اس ملاقات کے بہت کوششیں کیں اور شمالی کوریا اب بھی اس مسئلے کے حل کا خواہشمند ہے، ’جب بھی اور جیسے بھی ممکن ہو‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلہ کی وضاحت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے کئی وعدے توڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے اپنی تباہ شدہ جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی۔

دوسری جانب اس ملاقات کے منسوخ ہونے پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے سے تاسف کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریز نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اورشمالی کوریا جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے راستوں کی تلاش جاری رکھیں۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے بھی اس ملاقات کی منسوخی پر گہری افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سلامتی سے متعلق اہلکاروں کو ہنگامی بات چیت کے لیے طلب کر لیا ہے۔

کانگرس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفیں ان پر کڑی تنقید کر ہے ہیں۔

ملاقات کی منسوخی کی یہ خبر اس کے چند گھنٹوں بعد آئی ہے جب شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس نے اپنی ایک ایٹمی سائٹ کی سرنگیں تباہ کر دی ہیں۔

غیر ملکی نامہ نگاروں نے کہا تھا کہ انھوں نے پنگییے ری کی سائٹ پر ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھا ہے۔

صدر ٹرمپ نے خط میں کیا لکھا؟

'آپ نے اپنی ایٹمی صلاحیتوں کی بات کرتے ہیں، لیکن ہمارے (ایٹمی ہتھیار) اتنے بڑے اور طاقتور ہیں کہ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ انھیں کبھی استعمال نہ کرنا پڑے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

صدر ٹرمپ نے اپنے خط کے آخر میں کہا اگر کم جونگ ان اپنا ذہن تبدیل کر لیں تو ان سے رابطہ کریں۔

'دنیا، اور خاص طور پر شمالی کوریا، نے دیرپا امن، خوشحالی اور دولت کا ایک زبردست موقع گنوا دیا ہے۔ یہ ضائع شدہ موقع تاریخ کا افسوسناک لمحہ ہے۔'

Presentational white space

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا تجزیہ

ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ سربراہ ملاقات کی تیاریوں کے سلسلے میں شمالی کوریا کی جانب سے تسلی بخش جواب نہیں مل رہا تھا جس سے یہ خدشات جنم لے رہے تھے کہ اس ملاقات کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکیں گے۔

اہم سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟

شمالی اور جنوبی کوریا کے تعلقات میں حالیہ بہتری سے قبل شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے نے جزیرہ نما کوریا میں تنازعے کے دوبارہ آغاز کے خدشات کو جنم دیا تھا۔

کیا شمالی کوریا اب دوبارہ طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات شروع کر دے گا؟ کیا لفظی جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی یا پھر سفارتی سطح پر بات چیت کا عمل جاری رہنے کی موہوم سی امید باقی ہے؟

اور آخر میں کیا شمالی اور جنوبی کوریا کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے موجودہ تناؤ کے اثر سے محفوظ رہ سکیں گے؟

Presentational white space

اس سے قبل جمعرات کو شمالی کوریا کے ایک عہدے دار چوئی سون ہوئی نے امریکی نائب صدر مائیک پینس کے اس بیان کو 'احمقانہ' کہ مسترد کر دیا تھا کہ 'شمالی کوریا کا انجام لیبیا جیسا ہو گا۔'

لیبیا کے رہنما معمر قذافی کو ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونے کے بعد 2011 میں باغیوں نے قتل کر دیا تھا۔

عالمی ردعمل

جنوبی کوریا کی خبررساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے کہا ہے کہ ’میں بہت الجھن کا شکار ہوں اور یہ بہت افسوس ناک ہے کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ملاقات نہیں ہو رہی۔‘

خیال رہے کہ رواں سال شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور گذشتہ ماہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ملاقات کی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گنتریز نے کہا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کو امید نہیں چھوڑنی چاہیے، ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ’آہنی اعصاب‘ کی ضرورت تھی۔

امریکہ میں رپبلکن سینیٹر ٹام کوٹن نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ’کم جونگ ان کی دھوکہ دہی کو دیکھنے‘ پر تعریف کی ہے۔

تاہم ڈیموکریٹک سینیٹر برائن شاٹز نے کہا ہے کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ’ناتجربہ کار افراد جنگی جنون کے حامل افراد سے مل جاتے ہیں۔‘