شمالی کوریا ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کو مذاق نہ سمجھے : مائیک پینس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نائب صدر مائیک پینس نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کو سنجیدگی سے لیں وگرنہ صدر ٹرمپ میٹنگ سے واک آؤٹ بھی کر سکتے ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگر شمالی کوریا کے رہنما نے اس ملاقات کو مذاق سمجھا تو یہ ان کی بہت بڑی غلطی ہو گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ 12 جون کو ہونے والی ملاقات سے واک آؤٹ بھی کر سکتے ہیں۔
’میرا نہیں خیال کہ صدر ٹرمپ پبلک ریلیشنز کے بارے میں سوچ رہے ہیں، وہ امن کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘
امریکی نیشنل سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن کے بیان کے بعد شمالی کوریا نے ملاقات نہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جان بولٹن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے امریکہ ’لیبیا ماڈل‘ اپنائے گا۔
یاد رہے کہ لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی نے 2003 میں مغربی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ختم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں پابندیاں اٹھائی جائیں۔
اس معاہدے کے آٹھ سال بعد معمر قذافی کو مغربی ممالک کے حمایت یافتہ باغیوں نے قتل کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا کو امریکہ اور جونبی کوریا کی فوجی مشقیں پر بھی سخت اعتراض ہے اور اسی حوالے سے شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ بات چیت ختم کر دی ہے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات میں 12 جون کے اجلاس کے بارے میں بات چیت کریں گے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اتوار کو ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر اپنے رفقا اور مشیران سے صلاح لے رہے ہیں کہ کیا ان کو اس ملاقات کو منسوخ کر دینا چاہیے۔
دوسری جانب شمالی کوریا میں جوہری تجربوں کی سائٹ کو تباہ کرنے کی تقریب کے لیے برطانیہ، امریکہ، روس اور چین سے صحافی شمالی کوریا پہنچ گئے ہیں۔
اس تقریب کی تاریخ اور وقت کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے۔









