سیلفیوں کا نشہ: ’میں روزانہ 200 سیلفیاں لیتا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہJunaid Ahmed/Getty Images
- مصنف, بیلا شاہ
- عہدہ, بی بی سی نیوز بِیٹ
انسٹا گرام پر پچاس ہزار صارفین ایسے ہیں جو جنید احمد کو فالو کرتے ہیں اور جنید تسلیم کرتے ہیں کہ انھیں سیلفیاں لینے کا نشہ ہے۔
بائیس سال جنید روزانہ اپنی تقریباً دو سو تصویریں اتارتے ہیں۔
کوئی تصویر کس وقت سوشل میڈیا پر چڑھانی ہے اس کا انتخاب وہ بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں، اور اگر کسی تصویر کو چھ سو سے کم لائیکس ملیں تو وہ اسے اپنے صفحے سے اتار دیتے ہیں۔
’ جب میں کوئی تصویر پوسٹ کرتا ہوں تو پہلے ایک یا دو منٹ میں ہی اسے ایک سو لائیکس مل جاتے ہیں، میرا فون پاگل ہو جاتا ہے۔ مجے بہت مزا آتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام, 1

ایک حالیہ مطالعے کے مطابق بار بار اپنی سیلفی لینا ایک باقاعدہ ذہنی خلل ہے جسے ’سیلفی ٹِس‘ ( Selfitis) کا نام دیا گیا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف نوٹنگھم اور انڈیا کے تھیاگراجر سکول آف مینیجمنٹ سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دن میں چھ سے زیادہ مرتبہ اپنی سیلفی لیتا ہے اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں یہ ذہنی خلل بہت زیادہ ہے۔
جنید خود بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں سیلفی پوسٹ کرنے کی خواہش اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس سے باقی لوگ چِڑ جاتے ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ ’کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم کھانا کھانے جاؤ اور سیلفی نہ لو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا۔ ’میں نے جو تین گھنٹے تیار ہونے میں لگائے ہیں، میں انھیں یوں ضائع نہیں کر سکتا۔ میں اپنی تصویر کیوں نہ لوں۔‘؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام, 2
جنید کہتے ہیں کہ اب ان کی تصویر کے نیچے اگر کوئی بُرا کامنٹ کرتا ہے تو انھیں اتنا بُرا نہیں لگتا، لیکن وہ یہ بات مانتے ہیں کہ انھوں نے اپنے چہرے کو لوگوں کے دباؤ کی وجہ سے ہی تبدیل کیا ہے۔
’برسوں پہلے میں بالکل مختلف نوجوان تھا۔ میں خاموش طبع ہوتا تھا اور اپنے قدرتی انداز میں رہتا تھا۔ لیکن اب سوشل میڈیا میرے سر پر اتنا سوار رہتا ہے کہ میں ہر وقت اپنی شکل بہتر بنانے میں لگا رہتا ہوں۔‘
’میں نے اپنے دانتوں پر سفید رنگ چڑھایا ہے، ٹھوڑی، گالوں اور اپنے جبڑوں پر کام کروایا ہے۔ اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کے نیچے کی جگہ پر بھی انجیشکن لگوائے ہیں اور سر کو بھی بدلا ہے۔ اپنی آنکھوں کے اوپر بھی کچھ کروایا ہے اور چربی کو منجمند کرنے کا عمل بھی کروایا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJunaid Ahmed
لندن کے نواح میں واقع علاقے ایسیکس سے تعلق رکھنے والے جنید کے بقول انھیں احساس ہے کہ سوشل میڈیا کے کتنے منفی اثرات ہو سکتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا کو حد سے زیادہ سر پر سوار نہیں ہونے دیتے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ آپ کو سوشل میڈیا پر دکھائی دیتا ہے وہ سچ نہیں ہوتا۔
’اگر آپ سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کریں تو یہ ایک مزے کی چیز ہے۔ لیکن اس سے اپنی اصل زندگی کو محض اس وجہ سے متاثر نہ ہونے دیں کہ کوئی دوسرا انسٹاگرام پر کیسا دکھائی دیتا ہے اور آپ بھی ویسا ہی نظر آنا چاہتے ہیں۔‘
’میں بھی دوسروں جیسا لگنا چاہتا تھا‘
بونی بومین اب 23 سال کے ہیں اور جب وہ چودہ پندرہ سال کے تھے تو ان کے سر پر بھی سوشل میڈیا پر اپنی تصویریں پوسٹ کا بھوت سوار تھا۔‘
’میں بھی سوشل میڈیا پر خود کو قابل قبول بنانا چاہتا تھا اور میں نے سوچا کہ اس کا بہرتین طریقہ یہ ہے کہ میں خوبصورت لگوں۔‘
بونی بتاتے ہیں کہ وہ اپنی سیلفیاں لیتے تھے اور پھر ان میں خرابیاں تلاش کرنا شروع کر دیتے تھے اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی خرابی ڈھونڈ لیتے تھے۔ ان کے بقول یہ سارا عمل ایک مصیبت بن گیا اور وہ ہر وقت اسی چکر میں پڑے رہتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہDanny Bowman
’میں بس ایک دائرے میں گھومتا رہتا تھا اور ہر دوسرے دن دس دس گھنٹے آئینے کے سامنے کھڑا تصویریں اتارتا رہتا تھا۔‘
جب بونی 16 سال کے تھے تو انھوں نے ایک دفعہ اپنی جان لینے کی کوشش بھی کی تھی۔
اس کے بعد وہ فلاحی مرکز میں گئے اور ماہرین نے انھیں بتایا کہ وہ ’باڈی ڈِسمافِک ڈِس آرڈر‘ کے مرض کا شکار ہیں۔ اس مرض میں مبتلا شخص کو لگتا ہے کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ نہایت بُرا یا بھدا ہے اور اس حصے کو تبدیل کرنا یا دنیا سے چھپانا بہت ضروری ہے۔ بونی کہتے ہیں ان کی اس ذہنی بیماری میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
بونی اب یونیورسٹی میں ہیں جہاں وہ ذہنی مسائل کے شکار نوجوانوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDanny Bowman
’مجھے یاد ہے کہ میں اپنے بستر میں پڑا ہوا یہی سوچتا رہتا تھا کہ میں اس مصیبت سے کب چھٹکارا پاؤں گا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں کبھی اس سے نکل نہیں پاؤں گا۔‘
لیکن اب میں انسٹاگرام پر جو تصویریں پوسٹ کرتا ہوں، وہ میری سیلفیاں نہیں ہوتیں، بلکہ ان تصویروں میں میں لوگوں سے بات کر رہا ہوتا ہوں، تقریریں کر رہا ہوتا ہوں۔‘
’یہ کام مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے، بجائے اس کے کہ میں اپنی سیلفیاں لگاؤں اور پھر لوگوں کی منتّیں کروں کہ وہ میری تصویروں کو پسند کریں۔‘
صحت عامہ کے لیے کام کرنے والی ایک برطانوی تنظیم رائل سوسائٹی فور پبلِک ہیلتھ حکومت اور سوشل میڈیا چلانے والی کمپنیوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ موبائل فون میں ایسی چیز لگائیں کہ اگر کوئی مسلسل دو گھنٹے تک سوشل میڈیا پر ہو تو فون پر ایسا پیغام آئے جس میں اسے بتایا جائے کہ وہ بہت دیر سے فون پر ہے۔
تنظیم کی سربراہ شرلی کریمر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ دس میں سے سات نوجوانوں نے انھیں بتایا ہے کہ مشکل وقت میں سوشل میڈیا نے ان کی بڑی مدد کی ہے لیکن ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ذہنی دباؤ اور دماغی بے چینی کا ایک سبب خود سوشل میڈیا ہے۔‘








