ملبوسات کے برانڈ زارا کے نئے لباس پر بحث کہ یہ لُنگی ہے یا نہیں

Model wearing Zara lungi and Burmese men wearing lungis

،تصویر کا ذریعہZara/AFP

،تصویر کا کیپشنبازار میں دستیاب فیشن اور نیپال کے مردوں کا لباس

فیشن کی دنیا میں ایسی چیزیں بھی حیران کن بن جاتی ہیں جو کبھی ماضی میں عام رہی ہوں۔

اور شاید ایسا ہی کچھ ہوا ہے ملبوسات کے معروف برانڈ زارا کی پیش کردہ ’لُنگی‘ کے ساتھ۔

اب اس لباس کے استعمال کی نوعیت آپ کے قیام کے مقام پر منحصر ہے چاہے آپ اسے خود پہنے ہوئے ہیں، یا آپ کے والد اور دادا کبھی اسے پہنا کرتے تھے، یا ایک سیاح کی حیثیت سے آپ کسی مندر یا مقدس مقام پر جاتے ہوئے اپنی ٹانگیں ڈھکنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لنگی، تہبند، دھوتی یا سارونگ کہلانے والے اس لباس نے ہائی سٹریٹ یا عام بازاروں میں بھی جگہ بنا لی ہے۔

Men wearing longyi in Myanmar (file image)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکئی جگہوں پر تو یہی لنگی لوگوں کے روز مرہ لباس کا حصہ ہے

لُنگی ایک ایسا کپڑا ہے جو کمر پر لپیٹ کر سامنے کے رُخ پر لا کر باندھ دیا جاتا ہے۔

یہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور عرب دنیا میں کئی نسلوں سے مردوں کے لیے آزمودہ لباس ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے کچھ علاقوں میں تو خواتین بھی لنگی پہنتی ہیں۔

ڈھیلی ڈھالی، ہلکے کپڑے کی لنگی گرم آب و ہوا کے لیے بہترین ہے جبکہ اس کی لمبائی پہننے والی کو جدید اور قابلِ دید بناتی ہے۔ یہ عموماً چیک ڈیزائن میں ہوتی ہیں تاہم لنگی مختلف رنگوں اور معیار کے کپڑوں سے بنائی جا سکتی ہے۔

اس کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ عموماً محض چند ڈالرز۔

Tourists are given sarongs in Indonesia (file image)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیی سیاحوں کو مندروں اور مقدس مقامات پر سارونگ پہنایا جاتا ہے

فیشن برانڈ زارا نے لگ بھگ ایسا ہی ایک لباس متعارف کروایا ہے جس کی برطانیہ میں قیمت تقریباً 69 پاؤنڈ یعنی 98 ڈالر ہے۔

زارا نے اسے ’چیک میں سکرٹ‘ کا نام دیا ہے جس کے سامنے کی جانب اضافی کپڑا لپٹا ہے۔

یہ پولی ایسٹر اور مصنوعی ریشم سے بنائی گئی ہے اور عام لُنگی کے برعکس اسے صرف ڈرائی کلین ہی کیا جا سکتا ہے۔

زارا کی لُنگی میں پچھلی طرف لگی زِپ اسے پرانی لُنگی سے مختلف تو کرتی ہے لیکن ٹوئٹر پر جاری بحث دیکھیں تو اس بات پر ہمہ گیر اتفاق ہے کہ یہ لُنگی ہی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

سوشل میڈیا پر بحث میں کئی لوگوں نے اس لباس کے زارا کی فہرست میں شامل ہونے پر حیرت کا اظہار کیا۔

کئی لوگوں کو یہ بات باعثِ تفریح لگی کہ ان کے باپ دادا سے منسلک لباس اب خواتین کے فیشن کے طور پر پہچانا جا رہا ہے اور وہ بھی ہوش ربا قیمت میں۔

اور کئی لوگ تو اس بات پر ناراض ہیں کے اس لباس کے لیے لُنگی کا حوالہ نہیں دیا گیا اور نہ ہے اس کے اصل علاقے کا بتایا گیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

کئی لوگوں نے الزام لگایا کہ پہلے تو بڑے بڑے فیشن برانڈ غریب ایشیائی ممالک سے سستے داموں لباس بنوایا کرتے تھے اور اب وہ یہاں کے ڈیزائن بھی چُرا کر منافع کما رہے ہیں۔