فیشن جو آپ کی صحت کے لیے اچھے نہیں!

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES/PA
فیشن مصنوعات کے متعلق عام طور پر ایسی ہدایتیں نظر آتی ہیں کہ یہ آپ کے اٹھنے بیٹھنے اور آپ کی چال ڈھال پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ پیٹھ اور گردن میں درد کا سبب بن سکتے ہیں۔
برٹش کائیرو پیکٹک ایسوسی ایشن (بي سی اے) کا کہنا ہے کہ انتہائی چست یعنی جلد سے چپکی ہوئی جینز، ہائی ہیلز اور بڑے ہینڈ بیگ ہمارے جسم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب چارٹرڈ سوسائٹی آف فیزیو تھیراپی اور دیگر ماہرین کی جانب سے اس قسم کے خدشات کی نفی کی جاتی رہی ہے۔
بی سی اے نے جن چیزوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے ان میں سے پانچ یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
جلد سے چپکی جینز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی سی اے کا دعویٰ ہے کہ سكني جینز ہماری فعالیت کو کم کر دیتی ہے۔
اس کے مطابق: ایسے لباس جسم کے جوڑوں پر دباؤ ڈالتے ہیں اور اس سے چھلانگ لگانے کی صلاحیت اور چہل قدمی کے دوران جھٹکے برداشت کرنے کی قدرتی طاقت کم ہو سکتی ہے۔
بڑے بیگ

،تصویر کا ذریعہEDUARDO PARRA
بی سی اے نے کہا ہے کہ بھاری بیگ، خواتین میں پیٹھ کے درد کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ اس کے مطابق، ہمیں کہنی میں پھنسا کر بیگ لے کر چلنے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس کے بوجھ سے کندھے پر زیادہ زور پڑتا ہے اور وہ دوسرے کندھے کے مقابلے میں جھک جاتا ہے۔
بڑے ہڈ والے کوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی سی اے نے کہا ہے کہ سر پر بڑے سائز کے فر والے گرم کوٹ پہننے سے بچنا چاہیے کیونکہ آس پاس دیکھنے کے دوران اس سےگردن پر زور پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہائی ہیلز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی سی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ ہائی ہیلز جسم کو ایک خاص صورت حال میں رہنے پر مجبور کرتا ہے جس سے ریڑھ کی ہڈی میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
بیک لیس جوتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی سی اے کا کہنا ہے کہ ایسی چپلیں جن کے پیچھے کا حصہ کھلا ہوتا ہے یعنی ہیل کی طرف سپورٹ نہیں ہوتا ہے، ان سے پاؤں اور گردن کے نیچے تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
ان کے علاوہ بی سی اے نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ بڑی بازو، بھاری بھرکم زیورات اور ٹیڑھی میڑھی کناریوں والے لباس بھی پہننے والوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
بی سی اے نے 1،062 لوگوں پر مشتمل ایک سروے کیا تھا جس میں یہ پایا گیا کہ 73 فیصد کو پیٹھ کے درد کی شکایت ہے جبکہ 33 فیصد لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کا لباس گردن اور ان کے انداز پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق، اس طرح کے لباس یا لوازمات آپ کی سرگرمی پر اثر ڈالنے کے علاوہ عجیب طرح سے کھڑے ہونے یا چلنے کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تنظیم کا مشورہ ہے کہ جب بھی کپڑے خریدیں تو آپ اپنی پیٹھ اور گردن کا خیال رکھیں۔ آپ ایسے کپڑے کو منتخب کریں جو آپ کی سرگرمی کے لحاظ سے ٹھیک ہو اور جب بھی بھاری چیزیں ساتھ رکھنی ہوں، بیک پیک کا استعمال کریں۔
پیٹھ میں درد کے ماہر ڈاکٹر مریم او كيفے کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ڈرانے والی ہے اور اس میں کوئی بھی سائنسی حقیقت نہیں ہے۔
چارٹرڈ سوسائٹی آف فیزیوتھیراپی کے سربراہ سٹیو ٹولن کا کہنا ہے کہ لوگوں کو جو بھی اچھا لگے وہ پہننا چاہیے، چاہے سكنی جینز ہو یا ہڈ والے کوٹ۔
ڈاکٹر او كيفے کا کہنا ہے کہ جینز اور بیگ کے متعلق تصورات غلط ہی نہیں ہو سکتے بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ درد کے خوف سے خواتین کی ان ملبوسات سے پرہیز کرنے لگیں گی جو انھیں پسند ہے۔
ان کے مطابق ’پیٹھ کے درد کے متعلق بہت سی خرافات عام ہیں اور متروکات کی بھی لمبی فہرست ہے جبکہ اس کے علاج کے متعلق بڑے پیمانے پر غلط تصوارت گردش کرتے ہیں۔ ‘

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
تو پھر پیٹھ کے درد کے لیے بہترین مشورہ کیا ہے؟
ماہرین کا مشورہ ہے کہ:
- خود کو فعال رکھیں
- اچھی نیند لیں
- جہاں تک ممکن ہو تناؤ سے بچیں
- وزن کو تناسب میں رکھیں
- زیادہ تر معاملات میں پیٹھ درد از خود ٹھیک ہو جاتا ہے، اس لیے زیادہ فکر نہ کریں
- پیٹھ کے درد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات رکھیں۔
- اگر کچھ ہفتوں میں یہ ٹھیک نہ ہو یا ناقابل برداشت تو طبی امداد حاصل کریں۔








