فیشن جو آپ کی صحت کے لیے اچھے نہیں!

فیشن مصنوعات کے متعلق عام طور پر ایسی ہدایتیں نظر آتی ہیں کہ یہ آپ کے اٹھنے بیٹھنے اور آپ کی چال ڈھال پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ پیٹھ اور گردن میں درد کا سبب بن سکتے ہیں۔

برٹش کائیرو پیکٹک ایسوسی ایشن (بي سی اے) کا کہنا ہے کہ انتہائی چست یعنی جلد سے چپکی ہوئی جینز، ہائی ہیلز اور بڑے ہینڈ بیگ ہمارے جسم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

دوسری جانب چارٹرڈ سوسائٹی آف فیزیو تھیراپی اور دیگر ماہرین کی جانب سے اس قسم کے خدشات کی نفی کی جاتی رہی ہے۔

بی سی اے نے جن چیزوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے ان میں سے پانچ یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

جلد سے چپکی جینز

بی سی اے کا دعویٰ ہے کہ سكني جینز ہماری فعالیت کو کم کر دیتی ہے۔

اس کے مطابق: ایسے لباس جسم کے جوڑوں پر دباؤ ڈالتے ہیں اور اس سے چھلانگ لگانے کی صلاحیت اور چہل قدمی کے دوران جھٹکے برداشت کرنے کی قدرتی طاقت کم ہو سکتی ہے۔

بڑے بیگ

بی سی اے نے کہا ہے کہ بھاری بیگ، خواتین میں پیٹھ کے درد کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ اس کے مطابق، ہمیں کہنی میں پھنسا کر بیگ لے کر چلنے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس کے بوجھ سے کندھے پر زیادہ زور پڑتا ہے اور وہ دوسرے کندھے کے مقابلے میں جھک جاتا ہے۔

بڑے ہڈ والے کوٹ

بی سی اے نے کہا ہے کہ سر پر بڑے سائز کے فر والے گرم کوٹ پہننے سے بچنا چاہیے کیونکہ آس پاس دیکھنے کے دوران اس سےگردن پر زور پڑتا ہے۔

ہائی ہیلز

بی سی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ ہائی ہیلز جسم کو ایک خاص صورت حال میں رہنے پر مجبور کرتا ہے جس سے ریڑھ کی ہڈی میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

بیک لیس جوتے

بی سی اے کا کہنا ہے کہ ایسی چپلیں جن کے پیچھے کا حصہ کھلا ہوتا ہے یعنی ہیل کی طرف سپورٹ نہیں ہوتا ہے، ان سے پاؤں اور گردن کے نیچے تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

ان کے علاوہ بی سی اے نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ بڑی بازو، بھاری بھرکم زیورات اور ٹیڑھی میڑھی کناریوں والے لباس بھی پہننے والوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

حقیقت کیا ہے؟

بی سی اے نے 1،062 لوگوں پر مشتمل ایک سروے کیا تھا جس میں یہ پایا گیا کہ 73 فیصد کو پیٹھ کے درد کی شکایت ہے جبکہ 33 فیصد لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کا لباس گردن اور ان کے انداز پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق، اس طرح کے لباس یا لوازمات آپ کی سرگرمی پر اثر ڈالنے کے علاوہ عجیب طرح سے کھڑے ہونے یا چلنے کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

تنظیم کا مشورہ ہے کہ جب بھی کپڑے خریدیں تو آپ اپنی پیٹھ اور گردن کا خیال رکھیں۔ آپ ایسے کپڑے کو منتخب کریں جو آپ کی سرگرمی کے لحاظ سے ٹھیک ہو اور جب بھی بھاری چیزیں ساتھ رکھنی ہوں، بیک پیک کا استعمال کریں۔

پیٹھ میں درد کے ماہر ڈاکٹر مریم او كيفے کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ڈرانے والی ہے اور اس میں کوئی بھی سائنسی حقیقت نہیں ہے۔

چارٹرڈ سوسائٹی آف فیزیوتھیراپی کے سربراہ سٹیو ٹولن کا کہنا ہے کہ لوگوں کو جو بھی اچھا لگے وہ پہننا چاہیے، چاہے سكنی جینز ہو یا ہڈ والے کوٹ۔

ڈاکٹر او كيفے کا کہنا ہے کہ جینز اور بیگ کے متعلق تصورات غلط ہی نہیں ہو سکتے بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ درد کے خوف سے خواتین کی ان ملبوسات سے پرہیز کرنے لگیں گی جو انھیں پسند ہے۔

ان کے مطابق ’پیٹھ کے درد کے متعلق بہت سی خرافات عام ہیں اور متروکات کی بھی لمبی فہرست ہے جبکہ اس کے علاج کے متعلق بڑے پیمانے پر غلط تصوارت گردش کرتے ہیں۔ ‘

تو پھر پیٹھ کے درد کے لیے بہترین مشورہ کیا ہے؟

ماہرین کا مشورہ ہے کہ:

  • خود کو فعال رکھیں
  • اچھی نیند لیں
  • جہاں تک ممکن ہو تناؤ سے بچیں
  • وزن کو تناسب میں رکھیں
  • زیادہ تر معاملات میں پیٹھ درد از خود ٹھیک ہو جاتا ہے، اس لیے زیادہ فکر نہ کریں
  • پیٹھ کے درد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات رکھیں۔
  • اگر کچھ ہفتوں میں یہ ٹھیک نہ ہو یا ناقابل برداشت تو طبی امداد حاصل کریں۔