یورپی عدالت انصاف نے ہم جنس پرست پناہ گزینوں کا نفسیاتی ٹیسٹ مسترد کر دیا ہے

ہم جنس پرست جوڑا (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنسی رحجان جاننے کے لیے کیے جانے والے نفسیاتی ٹیسٹ متنازع ہیں

یورپی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ ایسے ممالک سے جہاں ہم جنس پرستی جرم ہے، بھاگ کر آنے والے افراد کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کے لیے ان کے نفسیاتی ٹیسٹ کو بنیاد بنانا غلط ہے۔

ایسے افراد کا جنسی رحجان جاننے کے لیے ان کا نفسیاتی ٹیسٹ متنازع ہے لیکن ان کی پناہ کی درخواستوں کا فیصلہ کرنے کے لیے اسے بنیاد بنایا جا رہا ہے۔

یورپی عدالت انصاف کے فیصلے کا اطلاق یورپی یونین کے تمام 28 ممالک پر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یورپی عدالت انصاف کا یہ فیصلہ نائجیریا کے اس شہری کے کیس کی روشنی میں آیا ہے جس نے سنہ 2015 میں ہنگری میں ان بنیادوں پر پناہ کی درخواست دی تھی۔

اس کا کہنا تھا کہ ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے نائجیریا میں اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

نفسیاتی امراض کی ایک ماہر کی رپورٹ کی بنیاد پر اس نائجیرین شہری کی پناہ کی درخواست مسترد ہوگئی تھی۔ رپورٹ میں انھیں ہم جنس پرست نہیں پایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی یورپی ایجنسی کے مطابق افریقہ، مشرق وسطیٰ اور چیچنیا سے تعلق رکھنے والے کئی ہم جنس پرست افراد نے یورپ میں پناہ لی ہوئی ہے۔

یورپی عدالت انصاف کے اس فیصلے کی روشنی میں اب ہنگری کی اس عدالت کو اس نائجیریئن شخص کی درخواست پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

دسمبر 2014 میں بھی یورپی عدالت انصاف نے نیدرلینڈز کے ایک کیس سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ اس قسم کے ٹیسٹ پناہ کی درخواست کرنے والوں کے انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے۔

اس حالیہ فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ ان کیسز میں 'ماہرین کی بعض رپورٹس فائدہ مند ہو سکتی ہیں' لیکن اس قسم کی رپورٹس ایک شخص کی پرائیویسی میں دخل اندازی ہے۔

سنہ 2013 میں یورپی عدالت انصاف نے کہا تھا کہ ایسے کیسز میں پناہ دی جا سکتی ہے جن میں ایک شخص کو اپنے ملک میں ہم جنس پرستی کی وجہ سے قید کی سزا سنائی گئی ہو۔

ہم جنس پرستی کئی افریقی ممالک میں جرم ہے جن میں مغربی افریقہ کے اتحادی ممالک یوگینڈا، نائجیریا، کینیا اور بوٹسوانا شامل ہیں۔