آسٹریلیا کی پارلیمان میں ہم جنس پرست شادیاں قانونی، پارلیمان میں خوشی کا گیت

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریلیا میں ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ہم جنس پرست شادیوں کے بارے میں تاریخی بل کی منظوری کے بعد ملک میں ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔
آسٹریلیا کی پارلیمان نے بھاری اکثریت سے میریج ایکٹ کو تبدیل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
اس بل کی منظوری کے فوراً بعد آسٹریلیا کی پارلیمان میں جش منایا گیا یہاں تک کہ خوشی کا گیت بھی گایا گیا۔
اس کے ساتھ ہی آسٹریلیا میں اس معاملے پر گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط تلخ بحث کا بھی خاتمہ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAustralian Parliament
آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے کہا ’محبت، مساوات اور احترام کے لیے یہ تاریخی دن ہے۔‘
’آسٹریلیا نے یہ کر دکھایا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امید کی جا رہی ہے کہ آسٹریلیا کے گورنر جنرل آنے والے دنوں میں اس بل کی منظوری دیں گے جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
بل کی منظوری کے بعد پرجوش ارکان پارلیمان نے عوامی گیلری میں اپنے حامیوں کے سامنے ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہوئے گیت گانا شروع کر دیا ’میں، آپ اور ہم آسٹریلین ہیں۔‘
اس بل کی منظوری سے پہلے اس کے متعدد حامی آسٹریلوی پارلیمان کے باہر لان میں اکھٹے ہوئے جن میں ہم جنس پرست شادیوں کی حمایت کرنے والے میں نمایاں سابق اولمپک تیراک ائین تھارپ اور مقامی کمیڈین مگدہ سبانسکی بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلوی ایوانِ نمائندگان میں اس بل کو پیش کیے جانے کے بعد 100 سے زیادہ ارکانِ پارلیمان نے اس پر بحث کی تھی۔
متعدد سینیٹروں اور ارکان پارلیمان نے اس بل کی حمایت کرنے کی وجہ بتائی تاہم دوسرے سیاست دانوں نے اس کی مخالفت بھی کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ آسٹریلیا میں شادی کے ایکٹ میں ترمیم کا بل ملک میں کیے جانے والے ایک قومی سروے جس میں 6 .1 6 فیصد افراد نے اس میں تبدیلی کی حمایت کی تھی کے فوری بعد گذشتہ ماہ سینیٹ میں متعارف کروایا تھا۔
اس بل میں رجسٹرڈ مذہبی افراد کے لیے استثنا شامل ہے جو اپنے عقائد کے مطابق ایک ہی جنس سے شادی کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔








