آسٹریلیا میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے معاملے پر حکومت کو شکست

آسٹریلوی پارلیمان

،تصویر کا ذریعہEPA

آسٹریلیا میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قومی سطح پر ووٹنگ کرانے کی حکومتی تجویز کو پارلیمان کے ایوان بالا میں شکست ہو گئی ہے۔

آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ میرج ایکٹ میں ترمیم کرنے کا تیز ترین طریقہ ووٹنگ یا رائے شماری کے ذریعہ ہو سکتا ہے ۔

آسٹریلیا میں ہم جنس پرستوں کو ملک کی متعدد ریاستوں میں سول یونینز یا رجسٹرڈ تعلقات کا درجہ حاصل ہے لیکن وہ ملکی قانون کے تحت شادی شدہ نہیں ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد آسٹریلوی باشندے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

دوسری جانب آسٹریلیا کی حزب مخالف کی جماعتوں اور ہم جنس پرستوں کی شادی کے متعدد حمایتیوں نے اس معاملے پر استصواب رائے کروانے کے عمل کو مہنگا قرار دیتے ہوئے اسے ایک متنازع مہم قرار دیا ہے۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پارلیمان کو خود فیصلہ کرنا چاہیے۔

آسٹریلوی پارلیمان کے ایوان بالا میں حکومتی تجاویز کی شکست کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ کم سے کم پارلیمان کے آئندہ مدت تک کے ایجنڈے سے دور ہو جائے گا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل کے لیے مساوی شادی کا مسئلہ کافی پیچیدہ ثابت ہوا ہے اگرچہ وہ ذاتی طور پر ہم جنس پرستوں کی شادی کے حق میں ہیں تاہم وہ اپنے ارکان پارلیمان کو اس مسئلے پر آزادانہ طور پر ووٹ دینے کا راستہ اختیار کرنے سے کترا رہے ہیں۔

لیبر سینیٹر پینی وانگ نے پارلیمان کو بتایا کہ انھوں نے کافی دیر سوچنے کے بعد اس معاملے پر استصواب رائے کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا ' ہم اپنے خاندانوں اور بچوں کو عوامی سطح پر بدنام نہیں کرنا چاہتے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا 'یہ نفرت انگیز تقریر مبہم نہیں بلکہ واضح ہے، یہ اصل ہے اور ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہے۔'

اٹارنی جنرل جارج برینڈس نے لیبر پارٹی پر ہم جنس پرستوں کی زندگیوں کے ساتھ سیاست کھیلنے کا الزام عائد کیا۔

انھوں نے پارلیمان کو بتایا 'اس بِل کے خلاف ووٹ کا مطلب مساوی شادی کے خلاف ووٹ ہے۔'

آسٹریلیا کی لیبر جماعت نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اس بِل کی حمایت نہیں کرے گی تاہم اس نے رواں ہفتے پارلیمان میں اس بلِ کی شکست پر مذمت کی۔