سعودی عرب: بجلی اور پانی کا بل ادا کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے 11 شہزادے گرفتار

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی حکام نے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں احتجاج کرنے پر گیارہ شہزادوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
احتجاج کرنے والے شہزادے حکومت کے اس اقدام سے برہم تھے جس کے مطابق حکومت نے شاہی افراد کے بجلی اور پانی کے بلوں کی ادائیگی بند کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی حکومت آج کل تیل سے حاصل ہونے والی آمدن پر سے انحصار کم کرنے کے لیے بڑی معاشی تبدیلیاں کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔
اس حوالے سے حکومتی سبسڈیز اٹھانے کے ساتھ ساتھ سرکاری اخراجات پر بھی نظر رکھی گئی ہے۔
سعودی عرب نے سال 2018 کے آغاز پر ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں دگنا اضافہ کرتے ہوئے زیادہ تر اشیا اور دیگر خدمات بشمول کھانا اور یوٹیلٹی بلز پر پانچ فیصد ٹیکس متعارف کرایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس احتجاج کی خبر سب سے پہلے سعودی ویب سائٹ صدق نے شائع کی تھی۔
صدق کے مطابق شہزادوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے ایک کزن کو غیر واضح جرم پر سزائے موت دینے کی مالی طور پر تلافی بھی چاہتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی سرکاری پراسیکیوٹر نے ایک بیان میں ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو عوامی امن و امان خراب کرنے کے جرم میں جیل میں رکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال کرپشن کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے سلسلے میں درجنوں شہزادوں سمیت موجودہ اور سابق وزرا کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔











