امریکہ فلسطینیوں کو کتنی امداد دیتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن فلسطینیوں کے لیے امریکی امداد بند ہونی ضروری ہے جو ’اب امن کے خواہاں نہیں ہیں‘۔
اپنی ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو امداد کے بدلے میں سراہا گیا اور نہ ہی عزت دی گئی۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد وہ امریکہ کو غیر جانبدار ثالث نہیں سمجھ سکتے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی فیصلے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا تھا۔ جنرل اسمبلی میں 128 ممالک نے امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
امریکہ فلسطینیوں کو کیا امداد دیتا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا تھا کہ امریکہ اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے پروگرام کو دی جانے والی امداد بند کر دے گا۔
اقوام متحدہ کے اس پروگرام کے تحت فلسطینی علاقوں میں تعلیم، صحت اور سماجی پروگرام چلتے ہیں۔ اس پروگرام کے لیے امریکہ سب سے زیادہ امداد دیتا ہے۔ اس نے 2016 میں 370 ملین ڈالر دیے تھے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا تھا ’صدر نے بنیادی طور پر کہا ہے کہ وہ وہ مزید امداد نہیں دینا چاہتے جب تک کہ فلسطینی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہو جاتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے مزید کہا کہ یروشلم کے بارے میں امریکہ فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کے ووٹ نے صورتحال کو بہتر نہیں کیا۔
’فلسطینیوں کو اب ظاہر کرنا ہو گا کہ وہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔ اس وقت وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آنا چاہتے لیکن وہ امداد مانگتے ہیں۔‘
’ہم امداد نہیں دے رہے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔‘
امریکہ کی جانب سے امداد روکنے سے اقوام متحدہ کے اس پروگرام پر کافی اثر پڑے گا۔ امریکہ اس پروگرام کا 30 فیصد دیتا ہے۔
امداد بند کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی پر فلسطینی ردعمل؟
فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) نے ایک ٹویٹ میں ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انھوں نے پی ایل او کی جانب سے امن کی تلاش کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
فلسطینیوں نے امریکہ کو اشتعال دلانے کے لیے کیا کہا؟
یروشلم دنیا کا سب سے زیادہ متنازع شہر ہے۔ اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ پورا یروشلم اس کا دارالحکومت ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا۔ ان کو متنبہ کیا گیا تھا کہ ایسا کرنے سے خطے میں کشیدگی پھیلے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں گے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ’امریکہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن معاہدے میں ایک بد دیانت ثالث ہے۔‘










