اسرائیل: فوجیوں کے آگے ڈٹ جانے والی فلسطینی لڑکی پر فردِ جرم عائد

اسرائیلی عدالت میں احد تمیمی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسرائیلی عدالت میں اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی لڑکی احد تمیمی کو پیش کیا جا رہا ہے

اسرائیل میں ایک فوجی عدالت ایک فلسطینی لڑکی پر غربِ اردن میں دو فوجیوں پر حملے کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

احد تمیمی اور ان کی کزن کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھگڑ رہی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے ایک فوجی کو دھکہ دیا جبکہ دوسرے کو تھپڑ مارا۔

اس واقعے کی فوٹیج کو آن لائن بہت بار دیکھا گیا اور بہت سے فلسطینی سولہ سال کی اس بہادر لڑکی کو اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کی ہیرو کے طور پر سراہتے ہیں۔

مزید پڑھیئے

،ویڈیو کیپشنایک فلسطینی ٹرک ڈرائیور پر اسرائیل کے ایک فوجی کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت دیکھی گئ

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فوجی فلسطینی لڑکوں کو قریب ہی آتی جاتی گاڑیوں پر پتھر پھینکنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

احد تمیمی کی گرفتاری کے بعد ان کے والد باسم نے بھی انھیں اسرائیلی قبضے کے خلاف آواز اٹھانے والی ایک ہیرو کہتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس پر فخر ہے۔

اس واقعے کے بعد احد کی والدہ ناریمان کو بھی اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ احد سے ملنے پولیس سٹیشن گئی تھیں۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ تمیمی خاندان اور اسرائیلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی مسئلہ کھڑا ہوا ہو۔

اسرائیلی فوجیوں نے کئی مرتبہ باسم کو گرفتار کیا ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انھیں 2012 میں ایک مرتبہ ’ضمیر کا قیدی‘ بھی قرار دیا تھا۔

احد کی گرفتاری اس وقت ہوئی تھی جب ایک دن قبل صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے اعلان کے بعد نوجوانوں نے احتجاج شروع کر دیا تھا۔

احد تمیمی کے والد کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے صبح کے تین بجے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کی بیٹی کو اٹھا کر لے گئے۔ جب ان کی بیوی نے فوجیوں کو روکنے کی کوشش کی تو انھیں بھی دھکا دے کر گرا دیا گیا۔