ریاض پر حوثی باغیوں کا ایک اور ’میزائل حملہ ناکام‘

برکان ٹو میزائل

،تصویر کا ذریعہAlmasirah

،تصویر کا کیپشنحوثی باغیوں نے فروری 2017 میں برکان ٹو میزائل کی نمائش کی تھی

سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض پر فائر کیے گئے میزائل کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عینی شاہدین نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔ میزائل حملے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

حوثی باغیوں کے ٹی وی چینل المشیرا نے کہا ہے کہ میزائل کا نشانہ یماما محل میں شہزادہ سلمان کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ تھی۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ مہینے بھی یمن سے سعودی عرب پرایک میزائل داغا گیا تھا جو ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب پہنچ گیا تھا۔

سعودی عرب اور امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو میزائیل فراہم کر رہا ہے۔

ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے۔

المشیرہ چینل کی ویب سائٹ پر حوثی میزائل فورسز سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی شام برکان ٹو میزائل فائر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملہ یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے سعودی اتحاد کے حکام کے حوالے سے کہا کہ میزائل ریاض کے رہائشی علاقے پر فائر کیا گیا تھا جسے پیٹریاٹ میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کی اقوام متحدہ میں مندوب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکہ نے پچھلے ہفتے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض ہر فائر کیے جانے والے میزائل کو اکٹھا کر کے اس کی نمائش کی تھی

ترجمان نے مزید کہا کہ میزائل حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثی باغیوں کی فوجی امداد جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران ہی حوثی باغیوں کو میزائل سپلائی کر رہا ہے۔

سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب یمن کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور قریباً 50 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔