آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ریاض پر حوثی باغیوں کا ایک اور ’میزائل حملہ ناکام‘
سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض پر فائر کیے گئے میزائل کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عینی شاہدین نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔ میزائل حملے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
حوثی باغیوں کے ٹی وی چینل المشیرا نے کہا ہے کہ میزائل کا نشانہ یماما محل میں شہزادہ سلمان کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ تھی۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ مہینے بھی یمن سے سعودی عرب پرایک میزائل داغا گیا تھا جو ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
سعودی عرب اور امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو میزائیل فراہم کر رہا ہے۔
ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
المشیرہ چینل کی ویب سائٹ پر حوثی میزائل فورسز سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی شام برکان ٹو میزائل فائر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملہ یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے سعودی اتحاد کے حکام کے حوالے سے کہا کہ میزائل ریاض کے رہائشی علاقے پر فائر کیا گیا تھا جسے پیٹریاٹ میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ میزائل حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثی باغیوں کی فوجی امداد جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران ہی حوثی باغیوں کو میزائل سپلائی کر رہا ہے۔
سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب یمن کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور قریباً 50 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔