ایران یمن میں قیامِ امن میں ناکامی کا ذمہ دار ہے: سعودی عرب

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناجلاس میں مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فوجی حکام بھی شریک تھے

سعودی عرب نے ایران پر ایک مرتبہ پھر حوثی باغیوں کی حمایت اور مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یمن میں قیامِ امن کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ بیان اتوار کو دارالحکومت ریاض میں سعودی اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں سامنے آیا ہے۔

اس اجلاس میں مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فوجی حکام بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیے

لائن

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایران پر حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔

واضح رہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن پر حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ 'ایران یمن کے مسئلے کے حل کے لیے تمام کوششوں کو تباہ کر رہا ہے اور اسی وجہ سے حکومت اور ملیشیا کے درمیان سیاسی مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ملیشیا اپنی کارروائیاں دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑا معاون ایران کی حمایت کے بغیر جاری نہیں رکھ سکتی۔'

یمن کے وزیر خارجہ عبدالمالک نے اجلاس کو بتایا کہ حوثی باغی ایران کے اثر کے باعث 'فرقہ وارانہ منصوبہ' چلا رہے ہیں جس کا مقصد یمنی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی حمایت سے یمن کے بحران کا حل ڈھونڈنے کے لیے کئی مذاکرات ناکام ہوئے ہیں

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی حمایت سے یمن کے بحران کا حل ڈھونڈنے کے لیے کئی مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔

اتوار کو ہونے والے اجلاس کو سعودی عرب کے چیف آف سٹاف جنرل عبدالرحمان بن صالح البنیان نے بتایا کہ یمنی فورسز نے ملک کے 85 فیصد حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران 'جنیوا کنونشنز کے مطابق شہریوں کی حفاظت کا احترام کیا ہے'۔

یمن میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں سعودی اتحاد 2015 میں شریک ہوا تھا اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یمن میں جاری سعودی اتحاد کی فوجی کارروائیوں میں گذشتہ سال کم از کم 700 بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کے بعد اقوام متحدہ نے یمن میں فوجی کارروائی کرنے والے سعودی اتحاد کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔

تاہم بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد جنیوا میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی نے پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا 'سعودی اتحاد ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ شہریوں کو فوجی کارروائی میں نقصان نہ پہنچے'۔