سعودی اتحاد کی شرائط پہلے پارلیمان میں پیش کریں: رضا ربانی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے جمعرات کو اپنے ایک حکم نامے (رولنگ) میں حکومت کو پابند کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عسکری اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی شرائط اور طریقہ کار وفاقی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے سے قبل پارلیمان کے سامنے بحث کے لیے رکھا جائے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں 40 اسلامی ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد بنایا گیا ہے جس کی سربراہی پاکستان کی برّی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سونپی جانے کی اطلاعات ہیں۔
اس اتحاد کے حوالے سے اگرچہ اہم ترین ہدف شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ہے تاہم مختلف حلقوں میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اسے سعودی عرب کے علاقائی حریف ایران کے خلاف فرقہ وارانہ انداز میں استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔
جمعرات کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اسلامی اتحاد سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لیا۔
فرحت اللہ بابر نے اپنے نوٹس میں ان اخباری اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی جس میں سعودی حکام نے کہا تھا کہ اسلامی اتحاد محض خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم یا القاعدہ کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کسی رکن ملک کی درخواست پر باغی گروپوں کے خلاف حرکت میں لایا جا سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
سرتاج عزیز نے اعتراف کیا کہ حالیہ ریاض کانفرنس میں ہونے والے تقاریر سے فرقہ ورانہ تقسیم کا خدشہ بڑھا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی موجودگی سے پاکستان کو اپنے موقف کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس اتحاد میں شامل اپنی فوج سعودی عرب سے باہر کہیں نہیں بھیجے گا۔
کسی ملک کے اندر کارروائی سے متعلق چیرمین سینیٹ کے سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ مفروضے پر مبنی سوال ہے اور اس کا جواب نہیں دیا جاسکتا ہے لیکن سعودی حکام کا شاید اشارہ یمن کی جانب تھا جہاں ایران کا بھی اثر و رسوخ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف ہے ناکہ کسی ملک جیسے کہ ایران کے خلاف ہے۔
سینیٹر سحر کامران نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس میں امریکہ کی جانب سے گزشتہ دنوں افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں گرائے گئے بڑے بم سے ہلاک ہونے والوں میں پندرہ بھارتی شہری بھی ہونے کی اطلاعات کے بارے میں سوال اٹھایا تو سرتاج عزیز نے کہا کہ ان کی معلومات میں ایسی ہلاکتیں نہیں ہیں لیکن انہیں انڈیا کی افغانستان میں جاری مداخلت پر تشویش ضرور ہے۔ انہوں نے انڈیا کی جانب سے اس فوجی افسر کو ایوارڈ دینے کی بھی مذمت کی جس نے ایک کشمیری کو جیپ کے آگے باندھ دیا تھا۔









