کیا آپ لاٹری کی رقم سے خیراتی ادارہ کھولیں گے؟

Rachel Lapierre in Le Book Humanitaire’s office

،تصویر کا ذریعہAFP

اگر آپ کی لاٹری نکل آئے تو آپ کیا کریں گے؟ گھر خریدیں گے، نئی گاڑی لیں گے یا پھر دنیا گھومیں گے؟

مگر ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو لاٹری میں جیتی گئی رقم سے خیراتی ادارہ بنائیں گے۔

کینیڈا کے شہر کیوبک سے تعلق رکھنے والے ریچل لیے پیری ایسی ہی ایک خاتون ہیں۔

انھوں نے لاٹری میں جیتی رقم سے 2013 میں ایک خیراتی ادارہ بنایا۔

ماڈلنگ کمپنی چلانے کے ساتھ ساتھ انھیں رضاکارانہ طور پر کام کرنے کا شوق تھا اور وہ اپنی زندگی کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنا چاہتی تھیں۔

چار برس قبل جب انھوں نے 'ونر آف لائف' لاٹری جیتی تو زندگی بھر کے لیے ان کی آمدن کا بندوبست ہو گیا۔

اس لاٹری کی انعامی رقم کے تحت انھیں ہر ہفتے ایک ہزار کینیڈین ڈالر ملتے ہیں۔

Rachel Lapierre (centre) with her sister Guylaine (right) and a volunteer discuss their plans in Le Book Humanitaire’s office

،تصویر کا ذریعہAndreane Williams

رقم کا انتظام ہونے کے بعد ریچل نے دو ماہ کے اندر اندر نرس کی نوکری چھوڑ کر اپنا فلاحی ادارہ شروع کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں زندگی بھر کے لیے وہ کرنا چاہتی تھی جس سے مجھے پیار تھا یعنی دوسروں کی مدد کرنا۔‘

اُن کا فلاحی ادارہ سوشل میڈیا کے ذریعے مستحق افراد کا اُن لوگوں سے رابطہ کرواتا ہے جو مدد کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک پر اُن کے 22 ہزار فالووئرز ہیں اور اُن کی صفحے پر خدمات اور اشیا عطیہ کرنے والے ادارے اپنی تشہیر کر سکتے ہیں۔

رواں سال اُن کے ادارے نے کیوبک میں 15 ہزار افراد کی مختلف نوعیت کی مدد کی جن میں شامی تارکینِ وطن کو فرنیچر دلوانا اور بچے کو جنم دینے والی بے گھر ماں کو گھر دلوانا شامل ہے۔