شی جن پنگ، غار سے ایوانِ صدر تک

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, کیری گریسی
- عہدہ, بی بی سی
اکیسویں صدی میں شاید ہی ایسا کوئی رہنما ہو جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے زندگی کا کچھ حصہ غار میں گزارا ہو اور ایک کسان کی طرح کھیتوں میں کام کیا ہو۔
پچاس برس قبل چین میں ثقافتی انقلاب کی افراتفری کے دوران 15 برس کے شی جن پنگ نے ایک سخت دیہی زندگی کا آغاز کیا۔
وہ علاقہ جہاں شی جن پنگ نے کھیتی باڑی کی اس وقت خانہ جنگی کے دوران چینی کمیونسٹوں کا گڑھ تھا۔
شی جن پنگ کے اپنے تجربات کو آج مثبت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور چین میں دیہی علاقے انتہائی تیز رفتاری سے شہروں میں تبدیل ہو رہے ہیں جبکہ لیانگچاخر نامی وہ گاؤں جہاں شی جن پنگ نے وقت گزارا اب کمیونسٹ پارٹی کے عقیدت مندوں کے لیے ایک مقدس جگہ بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

1968 میں چیئرمین ماؤ کے حکم پر لاکھوں نوجوانوں کو شہروں سے دیہی علاقوں میں بھیج دیا گیا تا کہ وہ کسانوں کی سخت زندگی سے سبق حاصل کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سبق واقعی سیکھا اور آج اُن کی شخصیت پر گاؤں میں نوجوانی میں غار میں گزارے گئے ان ماہ و سال کا گہرا اثر ہے۔ 'لیانگچاخر میں میرا دل ہے۔ لیانگچاخر نے مجھے بنایا ہے'۔
'جب میں 15 برس کی عمر میں وہاں گیا تو میں پریشان اور تذبذب کا شکار تھا۔ لیکن جب میں 22 برس کی عمر میں وہاں سے واپس آیا تو زندگی میں میرے مقاصد واضع تھے اور میں پر اعتماد تھا‘۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس زمانے میں سب چیئرمین ماؤ کی مشہور ریڈ بک پڑھا کرتے تھے۔ اب چیئرمین شی جن پنگ کے اقوال بڑے بڑے سرخ بل بورڈز پر لکھے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان کے اعزاز میں ایک عجائب گھر بھی موجود ہے۔ یہ ان اچھے کاموں کا اعتراف ہے جو انہوں نے گاؤں کے اپنے ساتھیوں کے لیے کیے لیکن ان کی شخصیت اس تعریف و توصیف کے درمیان کہیں چھپ سی گئی ہے اور یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ۔
اپنے اقتدار کے پہلے پانچ برسوں میں شی جن پنگ نے اپنی شخصیت کا ایک حصار قائم کر لیا۔ وہ عوام کے رہنما کے طور پر ابھرے جو پسماندہ علاقوں میں عام لوگوں کے درمیان کھڑے نظر آئے۔ عام لوگوں کے ساتھ قطار میں کھڑے ہو کر چیزیں خریدنے والا رہنما۔
لیکن ان کی زندگی کے ان برسوں نے جو انہوں نے گھر اور خاندان سے دور ایک سیاسی جلا وطن کے طور پر ایک غار میں گزارے، اصل میں ان کی راہ متعین کی۔
'جن لوگوں کے پاس اقتدار کا بہت کم تجربہ ہے وہ اسے پراسرار اور انوکھا سمجھتے ہیں۔ میں اسے سطحی چیزوں سے بالاتر ہو کر دیکھتا ہوں۔ میں اقتدار کو گہرائی سے سمجھتا ہوں۔'
نوجوان شی جن پنگ غار میں آنے سے پہلے ہی تضادات سے آشنا ہو چکے تھے۔ بچپن میں ان کے والد کو کمیونسٹ انقلاب کا ہیرو سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے انہیں کئی آسائشیں حاصل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
2009 میں وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والی ایک امریکی سفارتی دستاویز میں شی کے ایک قریبی دوست کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کی زندگی کے ابتدائی دس برس میں ان کی شخصیت کی سب سے زیادہ تعمیر ہوئی۔ اس زمانے میں انہوں نے جو وقت بیجنگ کے مخصوص رہائشی کمپاونڈز میں انقلابیوں کے درمیان گزارا اس نے دنیا کے بارے میں ان کے خیالات کا تعین کیا۔
لیکن ساٹھ کی دہائی میں یہ سب ختم ہو گیا، جب تیزی سے عدم تحفظ کا شکار ہوتے ماؤ زے تنگ نے پارٹی کے صف اول کے لوگوں پر ظلم ڈھانے شروع کیے تو شی جن پنگ کے والد کو جیل بھیج دیا گیا اور اُن کے خاندان کی تذلیل کی گئی۔ شی کی ایک بہن کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت وہ 13 برس کے تھے جب ان کا سکول جانا ختم ہو گیا۔ بیجنگ بھر میں تدریسی عمل کو معطل کر دیا گیا تا کہ طالب علم اپنے اساتذہ پر نکتہ چینی کر سکیں، ان کی ٹھکائی لگا سکیں اور انہیں جان سے بھی مار سکیں۔
شی جن پنگ نے اس زمانے میں بہت سے خطرات کا سامنا کیا۔ وہ موت اور حراست سے بچتے پھرتے تھے۔ اس وقت ان کے والد ان کے پاس تھے نہ دوست۔
شی جن پنگ کہتے ہیں کہ جب ان کا سکول جانا بند ہوا اور انہوں نے سخت حالات کا سامنا کیا تو اس سے وہ جذباتی طور پر مضبوط اور ان کی سوچ آزاد ہوئی۔
ساٹھ کی دہائی میں گاؤں کی زندگی بہت سخت تھی۔ بجلی تھی نہ گاڑیاں اور نہ ہی کام کرنے کے لیے مناسب اوزار۔ نوجوان شی جن پنگ نے انہی دنوں میں کھاد کو اٹھانا، ڈیم بنانا اور سڑکوں کی مرمت کرنا سیکھا۔
وہ غار میں رہتے جہاں وہ کھٹملوں سے بھرے اینٹوں سے بنے بسر پر سوتے تھے۔ کھانے کے لیے دلیہ اور جڑی بوٹیاں اور بھاپ میں بنی روٹیاں میسر تھیں۔ ان کے ایک دوست کے مطابق وہ مٹی کے تیل سے جلنے والے لیمپ کی روشنی میں تمام رات پڑھتے رہتے تھے۔ ان کے دوست کہتے ہیں کہ جب شی پڑھ رہے ہوتے تھے تو وہ سگرٹ بناتے تھے۔ اس وقت پڑھنے کے لیے ماؤ کی کتابیں اور اخبارات کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے

شی کے دوست بتاتے ہیں کہ ان کے پاس حسِ مزاح نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ پوکر کھیلتے نہ ہی دوستوں کے ساتھ کہیں جاتے۔ انہیں کسی لڑکی سے دوستی کا بھی شوق نہیں تھا۔ 18 برس کی عمر تک وہ سیاسی میدان میں اتر چکے تھے۔ انہوں نے کمیونسٹ یوتھ لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 21 برس کی عمر میں باقاعدہ طور پر پارٹی کے رکن بن گئے حالانکہ ان کے والد کی سزا اور خاندان کی تذلیل ان کے راستے کی بڑی رکاوٹیں تھیں۔
2009 میں وکی لیکس کے نام سے افشا ہونے والی دستاویزات میں ان کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ نوجوانی کے زمانے ہی سے انتہائی پرامید اور حقیقت پسند ہیں۔
جب وہ پچیس برس کے ہوئے تو اس وقت تک ان کے والد سیاسی طور پر بحال ہو چکے تھے۔ ان کے والد نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے سیاسی سفر میں مدد کی اور شی جن پنگ نے تیزی سے خود بھی سیکھ لیا کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔
انہوں نے احتیاط کے ساتھ اپنا کیرئر پلان ترتیب دیا اور کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں آگی بڑھتے چلے گئے۔ پہلے فوج میں شمولیت اختیار کی پر صوبائی قیادت کا حصہ بنے اور مسلسل آگے بڑھتے گئے۔ پہلے دن سے ترقی ان کے ذہن میں تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شی جن پنگ اپنی ابتدائی زندگی کے صدمات اور غار میں گزارے تنہائی کے لمحات کو کبھی نہیں بھولے۔ ان کے ایک دوست کے مطابق ان کی کم گوئی کی وجہ سے ان کی پہلی شادی ناکام ہوئی جو انہوں نے ایک سینئیر سفارت کار کی صاحبزادی سے کی تھی۔ لیکن ان کی اسی خصوصیت نے ان کے سیاسی سفر کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ جب تک وہ ملک کے اعلی ترین منصب پر نہیں پہنچے ان کے بارے میں عوام کو کچھ نہیں معلوم تھا۔
لوگوں کی توجہ ان کی جانب ایک ہی مرتبہ مبذول ہوئی جب انہوں نے ایک مشہور گلوکارہ پینگ لی یوان سے شادی کی۔ کئی برس تک عوام میں یہ مذاق ہوتا رہا کہ شی جن پنگ کون ہیں؟ وہ پینگ لی یوان کے شوہر ہیں۔
صدر شی جن پنگ کی قیادت میں جو سنہ 2012 میں پارٹی کے سربراہ بنے تھے ملک کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ ملک میں اس وقت پارٹی کی کانگریس جاری ہے جس میں توقع ہے کہ وہی پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔










