گاؤں جہاں سے انڈیا اور چین کی سرحد آسانی سے پار کی جا سکتی ہے

چھاگلاگام
    • مصنف, نتن شریواستو
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

انڈیا اور چین نہ صرف دنیا کے دو طاقتور ملک ہیں بلکہ ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر تنازع بھی ہے اور ڈوکلام اس کی تازہ مثال ہے لیکن سرحد پر ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں سے اکثر فوجی اور عام لوگ سرحد پار کر جاتے ہیں۔

اس کو دیکھنے میں خود انڈیا کے صوبہ اروناچل پردیش پہنچا۔

الیلم ٹیگا
،تصویر کا کیپشنالیلم ٹیگا کا خاندان بھی سرحد پر بسے چھاگلاگام گاؤں میں رہتا ہے

نہ ہوٹل نہ مسافر خانہ

آسام کے دارالحکومت گواہاٹی سے رات بھر ٹرین کا سفر کر کے ہم تنسوکیا پہنچے۔ اروناچل پردیش کی سرحد یہاں سے دو ہی گھنٹے دور ہے لیکن یہاں سے پہاڑ نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اروناچل پردیش میں کہیں بھی بغیر پرمٹ کے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

چڑھائی پر بسے ہایولانگ شہر تک پہنچنے میں ہمیں دس گھنٹے لگے۔ یہاں نہ کوئی ہوٹل ہے نہ مسافر خانہ۔ وہاں کے سرکٹ ہاؤس میں قیام کے لیے ہمیں بڑی منت سماجت کرنی پڑی۔

چھاگلاگام
،تصویر کا کیپشنچھاگلاگام

خطرناک چڑھائی

سرکٹ ہاؤس کی نگرانی کرنے والے شخص نے ہم سے سوال کیا ’کہیں پہاڑ چڑھ کر چین کی سرحد پر جانے کا ارادہ تو نہیں ہے؟ ہر طرف لینڈ سلائڈ ہو رہی ہے۔’

دل میں کئی سوالات کے ساتھ ہم نے اگلی صبح پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔

آہستہ آہستہ پہاڑ خوفناک اور کھائی گہری ہوتی جا رہی تھی۔

گھنٹوں سفر کے بعد بمشکل کوئی انسان دکھائی دیتا تھا۔ وہ لوگ ہمیں تعجب سے گھورتے تھے۔

چھاگلاگام
،تصویر کا کیپشنچھاگلاگام کے رہائش

آسان ہے چین جانا

انڈیا اور چین کی سرحد پر بسے اس انڈین گاؤں چھاگلاگام تک پہنچنا ہی بڑی بات ہے۔

چھاگلاگام میں رہنے والے پچاس خاندانوں میں سے ایک الیلم ٹیگا کا خاندان بھی ہے۔

ان کی کمائی کا ذریعہ الائچی کی کاشت ہے۔ لیکن ان کا گھر جس جگہ ہے وہاں سے راشن کے لیے سب سے قریبی دکان بھی پانچ گھنٹے دور ہے۔

ان کے رشتہ دار چین میں بھی ہیں اور ان کے لیے چین جانا زیادہ آسان ہے۔

الیلم ٹیگا نے بتایا ‘ہم مچمی قبیلہ کے ہیں اور ہمارے خاندان کے آدھے لوگ سرحد کے اس پار چین میں رہتے ہیں۔ جب ہمارے گاؤں والے دوا بنانے کے لیے پیڑوں کی پتیاں لینے جنگل میں جاتے ہیں تو انہیں وہاں کی بستی والے بھی ملتے ہیں۔ اس طرح رشتہ داروں کی خیریت معلوم ہوتی ہے۔‘

چھاگلاگام
،تصویر کا کیپشنچھاگلاگام

گاؤں میں انڈین فوج کا ایک کیمپ ہے۔ ایک فوجی نے ہم سے کہا ‘آپ لوگوں کو یہاں دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔ یہاں تو نہ موبائل فون چلتا ہے نہ ٹی وی۔ پہاڑوں پر چڑھ کر گشت لگانا پڑتا ہے۔ موسم کا حال تو آپ خود ہی دیکھ لیجیے۔‘

چھاگلاگام اور آس پاس کے کئی لوگ فوج کے لیے گائیڈ یا مترجم کا کام کرتے ہیں۔ چوبیس سالہ آینڈیوں سوم بیپو پیشے سے گائیڈ ہیں اور ان دنوں روزگار کی تلاش میں ہیں۔

چین کے فوجیوں سے آمنا سامنا

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ نہ صرف سرحد پار کر چکے ہیں بلکہ چینی فوجیوں سے بھی روبرو ہو چکے ہیں۔

آینڈیوں سوم بیپو
،تصویر کا کیپشنآینڈیوں سوم بیپو

انھوں نے بتایا ‘اس دوپہر میں سرحد کے بہت قریب ٹہل رہا تھا۔ وہ لوگ سرحد کے تقریباً سو میٹر اندر مجھے ملے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آس پاس کتنے انڈین فوجی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہاں ہماری فوج کے 300 جوان ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد چینی فوجی واپس چلے گئے۔‘

چھاگلاگام میں رہنے والے زیادہ تر لوگ چین کی سرحد پار کر چکے ہیں۔ وہاں رہنے والے ماپیکم ٹیگا کے مطابق ‘سرحد کے دوسری طرف بہت ترقی دکھائی دیتی ہے۔ تین منزلہ عمارتیں اور پکی سڑکیں ہیں۔ انڈیا کی طرف ابھی اس کی ایک تہائی ترقی بھی نہیں ہو سکی ہے۔‘

انڈیا اور چین کے درمیان ایک لمبے عرصے سے اختلاف رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیاں 1962 میں جنگ بھی ہو چکی ہے۔

پچھلے کئی مہینے دونوں ملکوں کے درمیاں ڈوکلام علاقے پر تنازع رہا۔

دراصل انڈیا کے پانچ گاؤں کی سرحد چین کے ساتھ ہے۔

چھاگلاگام
،تصویر کا کیپشنچھاگلاگام

مستحکم سرحد نہیں

لیکن سکم کے علاوہ کسی دوسری ریاست میں سرحد کی نشاندہی کرنے والی کوئی مستحکم لائن نہیں ہے۔ انڈین فوج کے سابق رہنما جنرل وی پی ملک کو لگتا ہے کہ تنازع ایک مثبت سوچ سے ہی سلجھایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘لائن آف کنٹرول جس میں چین یقین کرتا ہے اور جس میں ہم یقین کرتے ہیں اس کی کم از کم نقشے پر نشان دہی کی جائے۔ کیوں کہ اگر آپ نقشے پر نشان لگا دیں گے تو آج کل جی پی ایس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ اپنے علاقے میں ہیں یا سرحد کے دوسری طرف۔ مشکل یہ ہے کہ چین نے ابھی تک اس پر نشان نہیں لگانے دیا ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی چینی فوجی بھی انڈیا میں دکھائی دے جاتے ہیں۔

جنرل وی پی ملک
،تصویر کا کیپشنجنرل وی پی ملک

دونوں طاقتور پڑوسیوں کے درمیان اکثر سیاسی ابال آتا ہے اور پھر ٹھنڈا بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن انڈیا کے اس علاقے میں رہنے والوں کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

چھاگلاگام میں اپنے گھر کی چوکھٹ پر بیٹھے الیلم ٹیگا ڈھلتے سورج کو دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ ‘ہم انڈیا میں رہتے ضرور ہیں لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ کسی کو ہماری فکر ہے بھی یا نہیں۔‘