کیلیفورنیا: جنگل کی آگ میں 40 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں لگنے والی جنگل کی آگ میں مرنے والوں کی تعداد 40 ہوگئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
کیلیفورنیا کے ایک بڑے دیہی علاقے میں گذشتہ چھ دنوں سے آگ کی تباہکاریاں جاری ہیں اور ہزاروں مکانات اس کی زد میں آ چکے ہیں۔
کیلیفورنیا کے گورنر نے کہا ہے کہ یہ ریاست کو آج تک پیش آنے والے 'شدید ترین سانحوں میں سے ایک ہے۔'
دس ہزار سے زیادہ فائر فائٹر باقی 16 جگہوں کی آگ کو بجھانے میں لگے ہیں جبکہ 70 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے والی ہوا نے اسے نئے قصبوں تک پہنچا دیا ہے اور مزید افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
سونوما کے شراب پیدا کرنے والے علاقے میں سینٹا روزا نامی شہر سب سے زیادہ متاثر مقامات میں سے ہے جہاں سنیچر کو تقریبا‘ تین ہزار لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔
گورنر جیری براؤن نے شہر کا دورہ کرنے کے بعد کہا: 'تباہ کاری ناقابل یقین ہے۔ یہ ایسا دہشتناک واقعہ ہے جس کے بارے میں کسی نے نہ سوچا ہو گا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty
ریاست کی تاریخ میں یہ اب تک کی سب سے مہلک آتشزدگی ہے۔ اس کے سبب ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور اس کی زد میں آنے والے تمام علاقے راکھ کا ڈھیر ہیں۔
جمعے کو آگ بجھانے والے عملے نے کچھ پیش رفت کی تھی جب انھوں نے جنوبی حصے سے سوکھے اور آتش گیر مادے کو ہٹا دیا تھا۔
لیکن تیز اور سوکھی ہوا کی واپسی اور زیادہ درجۂ حرارت نے آگ کو مزید پھیلا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ سے نکلنے والے دھوئیں اور راکھ کے بادل 50 میل کے فاصلے پر سان فرانسسکو کے علاوہ جنوب کے بعض دوسرے شہرں تک پہنچ گئے۔
ایک تجارتی گروپ نے بتایا کہ نیپا ویلی میں شراب کے کم از کم 13 کارخانے برباد ہو گئے جبکہ سینٹا روزا میں ایک کارخانے کے مالک نے بی بی سی کو بتایا کہ آگ نے لاکھوں ڈالر کی شراب تباہ کر دی ہے۔








