سعودی خواتین کی قومی دن کی تقریبات میں شرکت پر سوشل میڈیا پر تنقید

سعودی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ پہلا موقع تھا جب سعودی خواتین کو قومی دن کی تقریب میں شرکت کے لیے اجازت ملی تھی

سعودی حکومت کو خواتین کو ملک کے قومی دن کی تقریبات میں پہلی بار شرکت کی اجازت دینے کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دارالحکومت ریاض کے کنگ فہد انٹرنیشنل سٹیڈیم ہونے والی اس تقریب میں آتش بازی کا مظاہرہ اور کنسرٹ سمیت مختلف تفریحی سرگرمیاں منعقد کی گئی تھیں اور خواتین کو فیملی سیکشن میں بیٹھنے کی جگہ دی گئی تھی۔

یہ تقریب حکومت کی جانب سے حال ہی میں قائم کیے گئے ادارے 'انٹرٹینمینٹ اتھارٹی' کی جانب سے منعقد کی گئی تھی اور اس میں رقص، گلوکاری اور ریلیاں بھی پیش کی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ سعودی قوانین کے مطابق خواتین کو گھر سے باہر عبایا اور سکارف پہننا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ان پر گاڑی چلانے پر پابندی عائد ہے اور وہ گھر سے بغیر کسی بالغ مرد کے نہیں نکل سکتیں۔

لیکن قومی دن کی تقریبات میں ان کی شرکت پر سوشل میڈیا پر رد عمل بٹا ہوا نظر آیا۔

سعودی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی قوانین کے تحت ملک کی خواتین پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد ہیں

ایک صارف نے ٹویٹ میں لکھا کہ 'حب الوطنی کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آپ گناہ کریں۔ جو ہو رہا ہے وہ خدا کو خوش نہیں کرے گا۔ حب الوطنی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ رقص و سرود کی محفلیں سجائیں، مخلوط محفلوں میں شرکت کریں اور موسیقی بجائیں، یہ کیا عجیب وقت آگیا ہے۔'

کئی صارفین نے ملک کی مذہبی پولیس کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے جن کے اختیارات میں گذشتہ سال کمی کر دی گئی تھی اور ان سے عوام کو حراست میں لینے کی طاقت واپس لے لی گئی تھی۔

دوسری جانب کئی صارفین نے اس تقریب کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔

'میں نے اس تقریب میں شرکت کی تھی اور یہ بالکل مختلف ماحول تھا اور اس سے مجھے دوسرے ممالک میں ہونے والی تقریبات کی یاد آگئی۔ میرے وطن، آگے بڑھتے جاؤ۔‘