گھوڑے کے مضرِ صحت گوشت کے کاروبار کے خلاف یورپی آپریشن

گھوڑے

،تصویر کا ذریعہEUROPOL

،تصویر کا کیپشنیوروپول نے گھوڑوں کے معائینے کی چند تصویریں جاری کی ہیں

یورپی یونین کی پولیس ایجنسی، یورو پول نے کہا ہے کہ ہسپانوی پولیس کی قیادت میں آپریشن کے دوران گھوڑوں کے مضرِ صحت گوشت کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے ایک گروہ کا پتہ لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ گوشت انسانوں کے کھانے کے لائق نہیں اور پولیس نے جانوروں سے بدسلوکی، دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کاروبار چلانے کے جرائم میں ملوث 65 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پرتگال اور سپین میں جن گھوڑوں کا گوشت ناقابل استعمال سمجھا جاتا ہے انھیں ذبح کیا گیا اور ان کے گوشت کو کھانے کے لائق قرار دیا گيا۔

ایک ولندیزی شخص کو بلجیئم سے گرفتار کیا گیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنوب مغربی سپین کے اس غیر قانونی کاروبار کو کنٹرول کرتے تھے۔

وہ پہلے پہل جمہویہ آئر لینڈ کو ایک سکینڈل کے سلسلے میں سنہ 2013 میں بھی مطلوب تھے جب ’بیف برگر‘ میں گھوڑے کا گوشت ملا تھا لیکن اس کے بارے میں اس وقت کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔

پہلے والا معاملہ فوڈ سیفٹی کے بجائے کھانے میں دھوکہ دہی کے متعلق تھا۔

گوشت

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجرمنی میں گھوڑے کے گوشت کو بہت جگہ پسند کیا جاتا ہے

سپین کی پولیس نے گھوڑے کے گوشت کے معاملے میں عجیب وغریب طرز عمل کے سامنے آنے کے بعد ایک سال قبل آپریشن شروع کیا تھا۔

یوروپول نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے بیلجیئم، فرانس، اٹلی، پرتگال، رومانیہ، سوئٹزرلینڈاور برطانیہ کے ساتھ مل کر اس آپریشن کو انجام دیا۔

یوروپول نے کہا کہ نامعلوم ولندیزی شخص سپین کے کوسٹا بلینکا میں الیکانٹے کے کالپے سے جرم کے اس کاروبار کو کنٹرول کیا اور انھوں نے 'ہر ملک میں اپنے انتہائی معتمد افراد کو رکھا ہوا تھا۔'

پولیس نے شمالی سپین کے الیکانٹے اور لیون دونوں مقامات پر چھاپے مارے جہاں سے انھوں نے پانچ لگژری کاروں کو ضبط کرنے کے ساتھ بینک اکاؤنٹس اور دوسری چیزیں پکڑیں یا وہاں موجود افراد کو بلاک کر دیا۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہEUROPOL

،تصویر کا کیپشنسپین کی پولیس نے جرائم کرنے والوں کی جگہوں پر چھاپے مارے

پکڑے جانے والے افراد پر انصاف کے راستے میں رخنہ ڈالنے اور عوام کی صحت کے خلاف جرائم کے بھی الزامات لگائے گئے ہیں۔

یوروپول کا کہنا ہے کہ جو گھوڑے انتہائی خراب حالت میں تھے اور جنھیں 'کھانے کے لیے ناقابل استعمال' قرار دیا گیا تھا انھیں دو مختلف مذبح خانوں میں ذبح کیا جاتا تھا۔

پرتگال اور شمالی سپین کے مختلف حصوں سے حاصل ہونے والے جانوروں کے گوشت کو مخصوص کارخانے میں پراسیس کیا جاتا تھا اور وہاں سے بیلجیئم بھیج دیا جاتا تھا جو کہ گھوڑے کے گوشت کا اہم برآمد کرنے والا ملک ہے۔

اس جرم کو چلانے والے گروپ مائکرو چپس اور دستاویزات بدل دیتے تھے۔ ہیگ میں نمونوں کا تجزیہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ گوشت سپین کے باہرکے بازاروں کے لیے ہوتے تھے۔