
سکولوں کو بیجھے گئے حلال برگروں کے ٹیسٹ میں گھوڑے کے گوشت کے ڈی این اے ملے
برطانیہ کی لنکا شائر کاؤنٹی میں حلال برگروں میں گھوڑے کے گوشت کا ڈی این اے سامنے آنے کے بعد سکولوں سے فروزن یا منجمد خوراک ہٹا لی گئی ہے۔
فروری کے اوائل میں جب فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی نے کاؤنٹی کے سکولوں میں بیف کے بنے کاٹیج پائی کے ٹیسٹ کیے تو اس میں گھوڑے کا گوشت تھا۔
اس کے بعد کاؤنٹی کی کونسل کو چار سکولوں کو بھیجےگئے حلال برگروں کے ٹیسٹ میں گھوڑے کے گوشت کے ڈی این اے ملے۔
کاؤنٹی کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ بیف کے اکثر پکوان میں گھوڑے کا گوشت نہیں پایاگیا لیکن کاٹیج پائی اور چار سکولوں کو بھیجے گئے حلال برگروں میں گھوڑے کےگوشت کے ڈی این اے پائےگئے۔
انہوں نے کہا کہ ان سکولوں کو اس بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔
کاؤنٹی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ سکولوں کو بہت کم مقدار میں گوشت کے پکوان بھیجےجاتے ہیں اور طلباء و طالبات کو کھانے کے لیے دوسری بہت سی چیزیں میسر ہوتی ہیں۔
لنکا شائر میں مساجد کی کونسل نے کہا کہ یہ ’کراہت آمیز‘ ہے اور وہ سکولوں میں ہر قسم کی خوارک کا بائیکاٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
مساجد کی کونسل سے تعلق رکھنے والے حنیف دودھدوالا نے کہا کہ’ ہمیں لنکا شائر کے کاؤنٹی کونسل پر بالکل اعتماد نہیں۔اور آج کے انکشاف سے ہمیں دھچکا لگا ہے۔‘
لنکا شائر کاؤنٹی کونسل کے رہنما جیف ڈرائیور نے کہا کہ کونسل کے پاس خوراک کو سکولوں سے ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’ہولناک‘ واقعہ ہے کہ ہمیں ایسے دو پکوانوں میں گھوڑے کا گوشت ملا ہے جو سو فیصد بیف کے ہونے چاہیئیں۔
جف ڈرائیور نے مزید کہا کہ یہ پکوان ایک ایسے کمپنی بناتی ہے جس کے پاس سارے سرٹیفیکٹ ہیں اور جنہوں نے ہمیں حال ہی میں لکھ کر یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی خوراک کی مصنوعات میں گھوڑے کا گوشت نہیں ہے۔






























