
رومانیہ کی حکومت اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ برطانیہ اور فرانس میں بیف کےگوشت میں گھوڑے کی گوشت کی ملاوٹ کہیں اس کے کسی مذبح خانے سے تو نہیں ہورہی۔
حکام کا کہنا ہے اگر ایسا کوئي غیر قانونی کام ہوا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔
گزشتہ ماہ برطانیہ اور آئرلینڈ کی سپر مارکیٹوں سے ایسے بیف برگر فروخت ہوتے پائے تھے جن میں گھوڑے کا گوشت پایا گيا تھا۔
یہ بات ایک ڈی این اے میں سامنے آئی تھی لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ملاوٹ سے صحت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
رومانیہ میں فوڈ کے تحفظ سے متعلق محکمہ کے ایک نمائندے کونسٹینٹن ساؤ کا کہنا ہے ’جہاں تک ہمیں معلوم ہے توگھوڑے کا گوشت رومانیہ سے فراہم کیا جاتا ہے لیکن اس سے کوئی مسئلہ نہیں کھڑا ہوتا، کیونکہ ہمارے پاس ایسے پچیس مذبح خانے ہیں جہاں گھوڑوں کو کاٹنے کی اجازت ہے اور یورپی یونین کی حدود میں انہیں سپلائي کرنے بھی اجازت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا ’اس میں کوئي مشکل نہیں ہے کہ ہم گھوڑے کا گوشت مہیا کرتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں جان سکتے کہ مذبح خانوں سے گوشت جانے کے بعد ان کا کیا ہوتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش شروع کی گئی ہے کہ آخر ہوا کیا۔ ’ہمارے پاس گوشت کے لیے کاروباری دستاویزات بھی ہیں اور ایک نہیں بہت سے کاغذات ہیں۔‘
اس دوران برطانوی دارالعوام میں دیہی اور غذائی امور کی کمیٹی کی چيئرمین اینّی میکنٹوش نے یورپی یونین سے گوشت کی درآمدت پر عارضی طور پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
"جہاں تک ہمیں معلوم ہے توگھوڑے کا گوشت رومانیہ سے فراہم کیا جاتا ہے لیکن اس سے کوئي مسئلہ نہیں کھڑا ہوتا، کیونکہ ہمارے پاس ایسے پچیس مذبح خانے ہیں جہاں گھوڑوں کو کاٹنے کی اجازت ہے اور یوروپی یونین کی حدود میں انہیں سپلائي کرنے بھی اجازت ہے۔"
لیکن وزارت ماحولیات کے سیکریٹری اوین پیٹرسن کا کہنا ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔’یہ عوام کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ یا تو حد درجہ کی نا اہلیت ہے یا پھر عالمی سطح کی مجرمانہ سازش ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت اس معاملے کی تہہ تک جائیگی اور اس کے لیے وہ دیگر یورپی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ لیکن یورپی یونین کے قوانین کے تحت اس پر یکطرفہ طور پر روک نہیں لگائی جا سکتی۔
فنڈس نامی کمپنی کا کہنا ہے کہ بیف کے گوشت میں گھوڑے کی گوشت کی ملاوٹ کا وہ شکار ہوئی ہے اس لیے وہ گوشت فراہم کرنے والی کمپنی کے خلاف فرانس کی عدالت میں مقدمہ دائر کریگي۔
فنڈس نے فی الوقت بیف کے گوشت کی تمام اشیاء ہٹا دی ہیں۔
لیکن گوشت سپلائی کرنے والی فرانس کی کمپنی سپنگہیرو کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ بھی رومانیہ کی اس کمپنی نے دھوکہ کیا ہے جس نے اسے گوشت فراہم کیا تھا۔
فرانس میں کھانے کی بڑی چھ کمپنیوں نے بھی فنڈس کے ذریعے بنائے جانے والی غذائي اشیاء کو فروخت نا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانیہ میں سیکریٹری صحت جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ہسپتال میں جو مریض یہ اشیاء کھا رہے ہیں کہیں ان کی صحت کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل سے یورپی یونین میں پنپ رہے پیچیدہ کھانے کی تجارت کا پتہ چلتا ہے۔
ان کے مطابق سویڈیش برانڈ فنڈس برطانیہ کے سپر مارکیٹوں کے لیے کھانا تیار کرنے کے لیے فرانس کی ایک کپمنی ’ کومیجیل‘ کو گوشت فراہم کرتی ہے۔ اور وہ بھی لیگزمبرگ میں گوشت کے حصول کے لیے ایک دوسری کمپنی سے رابطہ کرتی ہے۔
جن برگرز میں گھوڑے کے کوشت کی ملاوٹ پائی گئی تھی وہ برطانیہ آئر لینڈ میں ٹیسکو اور آئیس لینڈ پر اور ریپبلک آف آئرلینڈ میں دیونز، لڈل اور ایلڈی نامی سپر سٹوروں پر فروخت ہو رہے تھے۔






























