
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کتاب کن سکولوں میں پڑھائی جا رہی ہے
بھارت کی ایک متنازع نصابی کتاب میں لکھا گیا ہے کہ گوشت خور ’آسانی سے دھوکا دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وعدے بھول جاتے ہیں اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں‘۔
صحت اور حفظانِ صحت کے بارے میں ’نیو ہیلتھ ویز‘ نامی اس کتاب کو بھارت کے ایک سرکردہ ناشر نے شائع کیا ہے، اور یہ گیارہ اور بارہ سالہ بچوں کو پڑھائے جانے کے لیے لکھی گئی ہے۔
ماہرینِ تعلیم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی کتابوں کی اشاعت پر زیادہ کنٹرول لاگو کرے۔
لیکن حکام نے کہا کہ یہ سکولوں کا کام ہے کہ وہ کتابوں کے مواد کو پرکھیں کیوں کہ وہی نصابی کتابوں کے انتخاب کے ذمے دار ہوتے ہیں۔
جامعہ ملیہ یونیورسٹی شعبۂ تعلیم کی جانکی راجن نے بی بی سی کو بتایا، ’یہ (مواد) بچوں کے لیے زہریلا ہے۔ حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس پر کوئی قدم اٹھائے لیکن وہ ہاتھ جھاڑ کر الگ کھڑے ہو گئے ہیں۔‘
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کتاب کو کون سے سکولوں نے نصاب میں شامل کیا ہے، لیکن ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہی بات پریشان کن ہے کہ یہ کتاب بچوں کو پڑھانے کے لیے دستیاب ہے۔
کتاب کے ایک باب میں لکھا ہے، ’گوشت کے لازمی خوارک نہ ہونے کی سب سے ٹھوس دلیل یہ ہے کہ خالقِ کائنات نے اسے آدم اور حوا کی خوراک میں شامل نہیں کیا تھا۔ اس نے انھیں پھل، خشک میوے اور سبزیاں دی تھیں۔‘
اس باب میں سبزی خوری کے ’فائدوں‘ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے غیر سبزی خوروں کے خصوصیات بیان کی گئی ہیں:
"گوشت کے لازمی خوارک نہ ہونے کی سب سے ٹھوس دلیل یہ ہے کہ خالقِ کائنات نے اسے آدم اور حوا کی خوراک میں شامل نہیں کیا تھا۔ اس نے انھیں پھل، خشک میوے اور سبزیاں دی تھیں۔"
’وہ باآسانی دھوکا دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، دعدے بھول جاتے ہیں، بے ایمان ہوتے ہیں، برے الفاظ استعمال کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں، لڑتے جھگڑتے ہیں، تشدد پر مائل ہوتے ہیں اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔‘
اس باب میں بہت سے واقعاتی غلطیاں ہیں، مثلاً اسکیمو کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ’کاہل، سست، اور کم عم ہوتے ہیں،‘ کیوں کہ ’ان کی خوراک بڑی حد تک گوشت پر مشتمل ہوتی ہے۔‘
آگے چل کر مزید لکھا ہوا ہے، ’جن عربوں نے نہرِ سوئز تعمیر کی تھی وہ کھجوریں اور گندم کھاتے تھے اور وہ ان گوشت خور انگریزوں سے بہتر تھے جو ان کے ساتھ نہر کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔‘
بی بی سی کی درخواست پر کتاب کے ناشر ایس چند نے کتاب پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔






























