تھکنے سے کوئی فائدہ نہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ڈیموکریسی ایسے نظام کا نام ہے جس میں عوام اس توقع پر اپنے میں سے زیادہ ذمہ دار ، معتبر اور قابل افراد کو با اختیار بناتے ہیں تاکہ وہ ایک مخصوص مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد عوام کی بنیادی ضرورتوں اور آزادیوں کو بلا امتیاز یقینی بناتے ہوئے روزمرہ اور دورس داخلی و خارجی مسائل کو اخلاص کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔جو اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں انہیں دوبارہ موقع مل جاتا ہے۔جو نہیں اترتے انہیں ووٹر عارضی یا مستقل طور پر گھر یا حزبِ اختلاف کی بنچوں پر بھیج دیتے ہیں۔
جبکہ الیکٹو کریسی ایسے نظام کا نام ہے جس میں کچھ پیشہ ور خواب فروش عوام کو بار بار سپنوں کا دھتورا پلا کر خود کو منتخب کرواتے ہیں اور ہر مرتبہ نئے خوابوں میں نیا نشہ ملا کر بیچتے ہیں۔اور جب یہ نسخہ کام نہیں کرتا تو سیاسی و سماجی پلاسٹک سرجری کروا کے سادہ لوحوں کو کسی نئے سپنے کے بانس پر بٹھا دیتے ہیں۔اور جب اس سے بھی کام نہیں چلتا تو نشہ اور تیز کرنے کے لیے خواب میں تعصب کی اجوائن ، جوارشِ مغلظات ، تنگ نظر قوم پرستی کا معجون ، جوشاندہِ سازش ، برگِ فرقہ ، سفوف ِ برادری ، شربتِ وعدہ اور عرقِ معذرت ملا کر خوب گھوٹتے ہیں۔
یہ آمیزہ پی کر جب دھت ووٹر بیلٹ بکس کی طرف بڑھتا ہے تو پیر کہیں پڑتا ہے اور ووٹ کہیں ۔وہ خوش خوش گھر واپس آتا ہے اور سوجاتا ہے۔جب نشہ اترتا ہے تو وہی خواب فروش سامنے پاتا ہے کہ جنہیں بدلنے کے لیے اس نے اتنا کشٹ کاٹا ۔
پچھلے پینسٹھ برس سے یہاں ہر وردی اور شیروانی والا ننگ دھڑنگ لوگوں کو ڈیموکریسی کے نام پر الیکٹو کریسی بیچ رہا ہے۔تم نے پچھلی دفعہ ووٹ دیا تھا تو تمہیں شلوار ملی تھی نا۔اس دفعہ ووٹ دو گے تو قمیض بھی ملے گی۔تین حامی اور لاؤ تو جوتا بھی دیں گے۔خود جاؤ گے تو جوتا بھی نہیں پڑے گا۔
لوگ واقعی چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ لیکن مافیا ، کارٹیل اور گلڈ کی سفاکی سے کیسے چھٹکارا پائیں جہاں سائے نے بھی سائے سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔جہاں وقت بھی اندر خانے پروفیشنل خرکاروں سے ملا ہوا ہے۔رات اپنے شکار کو اگل کر جعلی دن کے حوالے کردیتی ہے اور دن پھر اس شکار کو چچوڑ چچاڑ کر رات کے سیاہ جبڑوں میں واپس دے دیتا ہے۔
یہ کروڑوں بے سکون و بے چہرہ لوگ اس بے چارے کی طرح ہیں جو بدفعلی کی خبر سن کر مدرسے پہنچا اور چیختے ہوئے کہا کہ اب میں اپنے بچے کو ایسی واہیات جگہ نہیں پڑھاؤں گا۔مدرسہ انچارج مسکراتے ہوئے بولا ’ تھکنے سے کوئی فائدہ نہیں۔جہاں بھی داخل کراؤ گے نصاب کم وبیش یہی پاؤ گے‘۔



