
طلباء نے کیمپس میں گائے کی بریانی پیش کی
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں گائے کے گوشت کھانے کے مسئلے پر دلت اور سخت گیر ہندو طلباء کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔
دلتوں پر مشتمل بعض تنظیموں نے گائے کا گوشت کھانے کے لیے ایک تقریب کا اہتمام تھا اور سخت گیر ہندو نواز طلباء کی تنظیم اکھِل بھارتی پریشید نے اس کی مخالفت کی تھی۔
اسی معاملے پر طلباء کے دوگروپوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور اتوار کی رات دونوں گروپوں نے میں جھڑپیں ہوئیں۔
پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے دلت طلباء کی مختلف تنظیموں نے ڈاکٹر امبیڈکر کی پیدائش کے موقع پر یونیورسٹی میں ’بیف فیسٹیول ’ کا انعقاد کیا تھا۔
ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ بڑے جانوروں کا گوشت کھانا ان کی روایت رہی ہے اور یہ ان کا حق ہے کہ گائے کا گوشت کھائیں۔ لیکن اے بی وی پی نے اس کی مخالفت کی تھی۔
اس فسٹیول میں تقریبا پندرہ سو افرادنے شرکت کی جس کے لیے زبردست سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

جھڑپوں کے دوران گاڑیوں کو آگ لگائی گئي
حیدرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق کے مطابق پروگرام کے تحت گائے کے گوشت کی بریانی یونیورسٹی کے کیمپس میں ہی پکنی تھی لیکن ہنگامے کے سبب پکی ہوئی بریانی کیمپس میں لائی گئي اور پھر لوگوں کو کھلائی گئي۔
جس وقت یہ تقریب چل رہی تھی اسی وقت اے بی وی پی کے حامیوں نے اس کی مخالفت میں جلوس نکالا لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔
انہیں پولیس نے روکا تو انہوں نے پتھراؤ کیا اور پھر کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ ہنگامے کے وقت دلت طلباء بھی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے بھی لاٹھی سے ان کا مقابلہ کیا۔
پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گيس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب حالات قابو میں ہیں۔
واضح رہے کہ گائے ہندؤں کے لیے ایک مقدس جانور ہے اور بھارت کے بیشتر علاقوں میں ہندو اس کا گوشت نہیں کھاتے۔ لیکن جنوبی ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں دلت سماج گائے کا گوشت کھاتا ہے۔
بھارت کے بہت سے علاقوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے لیکن ریاست آندھرا پردیش ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں گائے کا گوشت کھانے کی آزادی ہے۔






























