بھارت، دلت خاتون ہونے کی سزا

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں گاؤں کی ایک دلت خاتون پردھان کو اس کی ذات کے سبب نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں نے گاؤں سے باہر نکال دیا ہے۔
ودھو دیوی نام کی گاؤں کی پردھان نے انتظامیہ سے اس کی شکایت کی ہے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت میں ذات پات کے نام پر امیتازی سلوک ایک عام بات ہے۔ لیکن گاؤں کے پردھان کے ساتھ یہ واقعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
ودھو دیوی نے جو شکایت درج کی ہے اس کے مطابق وہ کلاسی تحصیل کے مینگرو گاؤن کی پردھان ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ سیٹ دلتوں کے لیے مختص تھی جس سے وہ بلا مقابلہ منتخب ہوئی تھیں لیکن گاؤں کے نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں کو ان کا پردھان بننا پسند نہیں آیا اس لیے ان لوگوں نے انہیں گاؤں سے باہر نکال دیا ہے۔
انہیں شکایت کیے چند روز ہوگئے ہیں لیکن ابھی کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے اور ودھو دیوی اپنے بچوں اور شوہر منگل کے ساتھ در بدر بھٹکتی پھر رہی ہیں۔
بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے کہا '' مجھے گاؤں کی پردھانی نہیں چاہیے، میری گزارش ہے کہ میرے خاندان کے رہنے کے لیے انتظام کیا جائے۔''
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا '' جن افراد نے میرے ساتھ ایسا کیا ہے وہ اثر و رسوخ والے لوگ ہیں۔ چھوٹے لوگ ہیں اور اب تو مجھے وہاں واپس ہونے میں بھی ڈر لگ رہا ہے۔''
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر گاؤں کے لوگ اس معاملے پر خاموش ہیں۔ علاقے کے ایس ڈی ایم ایلا تومر کا کہنا ہے۔'' یہ بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہے جلدی ہی اس کی تفتیش کے بعد مجرموں کو سزا دی جائیگی۔''
مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ پردھان بننے کے بعد پنچائیتوں کی میٹنگ میں انہیں آنے نہیں دیا جاتا تھا اور جب بھی وہ اس طرح کے کاموں میں حصہ لینے کی کوشش کرتیں تو انہیں ان کی ذات پات کے حوالے سے برا بھلا کہا جاتا تھا۔







