بہار میں دلتوں کا قتل عام: تین کو پھانسی

پھانسی کا پھندا
،تصویر کا کیپشنرنویر سینا اعلی ذات پر مبنی ایک گروپ تھا

بہار میں 1996میں اکیس دلتوں کے قتل کے معاملے میں عدالت نے ممنوعہ تنظیم رنویر سینا کے تین ممبران کو پھانسی اور بیس کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

بہار میں بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کے مطابق 1996 میں ہوئی اس واقعہ کے بارے میں گزشتہ برس پانچ مئی کو ملزموں کو قصوروار پایا گیا تھا اور بدھ کو سزا سنائی گئی ہے۔

اس سے پہلے تیس ملزمان کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر بری کردیا گیا تھا۔

.واضح رہے کہ ارول ضلع کے لکشمن پور اور بھاتے گاؤں میں تیرہ برس پہلے ہوئے 58 دلتوں کے قتل کے ایک معاملے میں اس برس اپریشل میں پٹنہ کی ایک خصوصی عدالت نے 16 قصوروار افراد کو پھانسی اور دس کوعمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں رنویر سینا کے بعض ممبران کو بھی قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

بھوجپور کے بتھانی تولا گاؤں پر 1996 میں ممنوعہ تنظيم رنویر سینا کے 60 ممبران نے حملہ کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں ميں متعدد خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

پولیس کے مطابق اس معاملے میں ساٹھ سے زائد افراد کے خلاف الزامات طے ہوئے تھے۔

اس واقع میں زندہ بچنے والے ایک دلت کشن چودھری نے پورا واقعہ پولیس کے سامنے بیان کیا۔ اس کے بعد رنویر سینا کے سربراہ برمیشور سنگھ کے خلا ف الزامات طے اور اور انہیں مفرور قرار دیا گیا تھا۔اس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا تھا اور اب وہ جیل میں بند ہیں۔

ممنوعہ رینویر سینا ایک دہائی قبل بہار میں ایک سرگرم عسکریت پسند تحریک تھی جو اعلی ہندو برداریوں پر مبنی تھی۔

یہ گروپ اور تنظيم ماؤنواز تحریک کے خلاف پرتشدد کاروائی کرتے تھے۔