مصنوعی برگر، خوراک کے بحران کا حل؟

برگر
،تصویر کا کیپشنفی الحال یہ برگر ہالینڈ کی لیباریٹری میں تیار کیا جارہاہے

دنیا کا پہلا مصنوعی طور پر تیار کیا گیا برگر کچھ ہی مہینوں میں آپ کے کھانے کا حصہ بن سکے گا۔

یہ برگر سٹم سِیلز کی مدد سے تجربہ گاہ میں مصنوعی گوشت کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔

فی الحال ہالینڈ کی ایک لیبارٹری میں اسے تیس ہزار ڈالر سے بھی زیادہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں تیار کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب یہ برگر وسیع پیمانے پر تیار کیا جائے گا تو اس کی قیمت میں کمی آجائے گی۔

لیبارٹری میں تیار کیے جا رہے اس مصنوعی برگر کی خبر ایک ایسے وقت آئی ہے جب اقوام متحدہ نے کچھ ہی دن پہلے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ زمین پر خوراک کی پیداوار تیزی سے کم ہورہی ہے۔

ہالینڈ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اینا ہولگز نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ کیا کھیتوں کے بجائے لیبارٹری میں تیار کیے گئے کھانے سے خوراک کا بحران کم ہوجائے گا۔

اینا ہولگز کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنہ 2030 تک دنیا میں خوراک کی طلب میں پچاس فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

ہالینڈ کی ماسٹرش یونیورسٹی کے سائنسدان مارک پوسٹ کا ماننا ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔

مارک پوسٹ کا کہنا ہے کہ لیب میں تیار کیا گئے اس برگر کو عام عوام کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ برگر قدرتی گوشت سے تیار کردہ برگر کا ایک اچھا متبادل ہے۔

جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظيم PETA يعنی پیپل فار ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف انیملز نے امریکہ کی چھ ریاستوں میں مصنوعی گوشت کھانے کی شروعات کرنے والے کسی بھی شخص کو دس لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

لیکن اب بھی سوال یہی ہے کہ کتنے لوگ اس گوشت کو کھانے کے لیے تیار ہوں گے؟