
عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء نے کیمپس میں گائے کی بریانی پیش کی تھی
بھارتی دارالحکومت دلی میں ہائی کورٹ نے ملک کی معروف یونیورسٹی جواہر لال نہرو کے کیمپس میں گائے اور خنزیر پر مبنی فوڈ فیسٹیول نہ کرانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے دلی پولیس اور یونیورسٹی حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس طرح کا کوئی بھی پروگرام یونیورسٹی کیپس میں نہ ہونے پائے۔
جے این یو کے نام سے مشہور جواہر لال یونیورسٹی بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جہاں بائیں بازو کے نظریات کے حامل طلباء کا غلبہ رہتا ہے۔
یونیورسٹی کے بعض طلباء نے کیمپس میں خنزیر اور گائے کےگوشت پر مبنی کھانوں کا فیسٹیول کرانے کا اعلان کیاتھا۔ یہ فیسٹیول اس ماہ کی اٹھائس تاریخ کو ہونا تھا۔
بدھ کے روز دلی ہائي کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس اے کے سکری اور راجیو ساہی کی سربراہی والے بینج نے اپنے حکم میں کہا: ’جواہر لال یونیورسٹی اور دلی پولیس کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اٹھائس ستمبر یا مستقل میں کبھی بھی بیف یا پورک ( یعنی گائے یا سور ) پر مبنی کسی فیسٹیول کو نہ ہونے دیا جائے۔‘
ہائی کورٹ نے یہ حکم ایک عرضداشت پر سماعت کے بعد دیا ہے۔ گائے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک ہندو تنظیم ’گاؤ رکشا سینا‘ نے اس فیسٹیول کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
تنظیم نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ جے این یو کیپمس میں اس فیسٹیول کے ہونے پر روک لگائي جائے کیونکہ قانونی طور پر یہ ایک جرم ہے۔
"جوہرا لال یونیورسٹی اور دلی پولیس کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اٹھائس ستمبر یا مستقل میں کبھی بھی بیف یا پورک ( یعنی گائے یا سور ) پر مبنی کسی فیسٹیول کو نا ہونے دیا جائے۔"
کورٹ
دلی میں ’اگریکلچرل کیٹل پریوینشن ایکٹ‘ کے تحت گائے ذبح کرنا غیر قانونی ہے اور اس تنظیم نے اسی کے حوالے سے کورٹ سے استدعا کی تھی۔
تنظیم کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل ومل وادھوان نے کہا کہ جن طلباء نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس فیسٹیول کا اعلان کیا تھا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
ومل وادھوان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت گائے کا گوشت جمع کرنے یا اسے پیش کرنے پر پانچ برس قید کی سزا اور دس ہزار روپے تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔
جے این یو کے ایک طالب علم انوپ سنگھ نے اس فیسٹیول کے لیے سرکلر جاری کیا تھا اور یونیورسٹی کے طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ انہیں عدالت کے حکم سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
جے این یو میں اسی ہفتہ طلباء یونین کے انتخابات ہوئے ہیں جس میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلباء نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔
اس سے قبل بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں گائے کا گوشت کھانے کے مسئلے پر دلت اور سخت گیر ہندو طلباء کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔
دلتوں پر مشتمل بعض طلباء تنظیموں نے عثمانیہ میں گائے کا گوشت کھانے کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا اور سخت گیر ہندو نواز طلباء کی تنظیم اکھِل بھارتی پریشید نے اس کی مخالفت کی تھی۔
اسی معاملے پر طلباء کے دوگروپوں میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور دونوں گروپوں میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔






























