گوشت کی برآمد پر پابندی کا خیرمقدم

،تصویر کا ذریعہReuters
پشاور کی تاجر برداری نے پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے افغانستان کو پرمٹ کے ذریعے سے گوشت اور پولٹری کی برآمد تاحکم ثانی معطل کرنے کے حکم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صوبہ میں مہنگائی میں کمی واقع ہوگی اور غریب عوام کو فائدہ ہوگا۔
سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئیر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کو بتایا کہ ’ کئی سال سے افغانستان کو پرمٹ کے ذریعے سے گوشت اور مال مویشی سمگل کیے جا رہے تھے‘۔
انہوں نے کہا کہ اس سمگلنگ کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں گوشت اور مرغی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پشاو ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد گوشت کی قیمتوں میں واضح کمی ہوگی جبکہ اس کا فائدہ عوام کو ہوگا۔
ضیاء الحق سرحدی کا کہنا تھا کہ گوشت کی برآمد کے پرمٹ سیاسی بنیادوں پر یا بھاری رقوم کے عوض جاری کیے جاتے ہیں اور یہ زیادہ تر وفاقی محکموں کی طرف سے ہی جاری ہوتے ہیں۔
پشاور کے ایک تاجر اسحاق خان نے بتایا کہ عدالت کی طرف سے صرف اس برآمد پر پابندی لگائی گئی ہے جو پرمٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی برآمد باقاعدہ قانونی طریقے سے ہو رہی ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات پرمٹ جاری ہونے میں ناانصافی ہوتی ہے اور سیاسی اثر رسوخ استعمال کیا جاتا ہے جس سے حقیقی تاجروں کی حق تلفی ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ پیر کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس شاہ جہان اخونزادہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوبے میں گوشت اور مرغیوں کی قلت اور ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت عالیہ نے مویشیوں اور مرغیوں کی افغانستان برآمد پر تاحکم ثانی پابندی عائد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ تمام پرمٹوں کو بھی معطل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔







