گھوڑے کا گوشت،مسئلہ شدت اختیار کرگیا

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 11:33 GMT 16:33 PST
برگر

برطانیہ اور فرانس میں فروخت ہونے والے بیف میں گھوڑے کی گوشت کی ملاوٹ کا مسئلہ یورپ کے سولہ ممالک تک جا پہنچا ہے۔

فرانس کے وزرا بیف کےگوشت میں گھوڑے کی گوشت کی ملاوٹ کے مسئلے پر اس صنعت سے وابستہ افراد سے مذاکرات کریں گے۔

فرانس کی سات سپر مارکیٹوں نے فنڈس اور کومیجیلنامی کمپنیوں کی جانب سے بنائے گئے منجمند گوشت کو ہٹا دیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اقدام برطانیہ اور آئرلینڈ کی سپر مارکیٹوں میں ایسے بیف برگر فروخت ہوتے پائے تھے جن میں گھوڑے کا گوشت پایا گيا تھا کے بعد اٹھایا گیا۔

اس سکینڈل نے کھانے کی تجارت کی یورپی یونین کے دیگر ممالک تک ترسیل کے نظام کی پیچیدگی پر سوال اٹھا دے ہیں۔

اس سکینڈل نے برطانیہ، فرانس، سویڈن اور رومانیہ میں کھانے کی تجارت کے ڈسٹری بیوٹرز کے بزنس کو متاثر کیا ہے۔

اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھانے کی تجارت سے منسلک یورپی یونین کے مذید گیارہ ممالک کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔

فرانس میں کھانے کی بڑی چھ کمپنیوں نے بھی فنڈ‎س کے ذریعے بنائے جانے والی غذائی اشیاء کو فروخت نا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانس کے وزیر خوراک کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ فرانس میں ملاوٹ سے متاثرہ تمام مصنوعات کو ہٹا دیا جائے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوڈ چین سے وابستہ تمام افراد سے تازہ ترین معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس کا آغاز کیسے ہوا اور اس سے کیا سبق حاصل ہوا؟

ادھر رومانیہ کی حکومت اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ برطانیہ اور فرانس میں بیف کےگوشت میں گھوڑے کی گوشت کی ملاوٹ کہیں اس کے کسی مذبح خانے سے تو نہیں ہورہی۔

اس دوران برطانوی دارالعوام میں دیہی اور غذائی امور کی کمیٹی کی چيئرمین اینّی میکنٹوش نے یورپی یونین سے گوشت کی درآمدت پر عارضی طور پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت ماحولیات کے سیکرٹری اوین پیٹرسن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔’یہ عوام کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ یا تو حد درجہ کی نا اہلیت ہے یا پھر عالمی سطح کی مجرمانہ سازش ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت اس معاملے کی تہہ تک جائے گی اور اس کے لیے وہ دیگر یورپی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے قوانین کے تحت اس پر یکطرفہ طور پر روک نہیں لگائی جا سکتی۔

اوین پیٹرسن برطانوی دارالعوام کو اس سکینڈل سے پیدا ہونے والی تازہ صورت حال سے آگاہ کریں گے۔

خیال رہے کہ جن برگرز میں گھوڑے کے کوشت کی ملاوٹ پائی گئی تھی وہ برطانیہ آئر لینڈ میں ٹیسکو اور آئیس لینڈ پر اور ریپبلک آف آئرلینڈ میں دیونز، لڈل اور ایلڈی نامی سپر سٹوروں پر فروخت ہو رہے تھے۔

برطانیہ اور آئرلینڈ کی سپر مارکیٹوں سے گزشتہ ماہ ایسے بیف برگر فروخت ہوتے پائے تھے جن میں گھوڑے کا گوشت پایا گيا تھا۔

یہ بات ایک ڈی این اے میں سامنے آئی تھی لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ملاوٹ سے صحت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

رومانیہ میں فوڈ کے تحفظ سے متعلق محکمہ کے ایک نمائندے کونسٹینٹن ساؤ کا کہنا ہے ’جہاں تک ہمیں معلوم ہے توگھوڑے کا گوشت رومانیہ سے فراہم کیا جاتا ہے لیکن اس سے کوئی مسئلہ نہیں کھڑا ہوتا، کیونکہ ہمارے پاس ایسے پچیس مذبح خانے ہیں جہاں گھوڑوں کو کاٹنے کی اجازت ہے اور یورپی یونین کی حدود میں انہیں سپلائي کرنے بھی اجازت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’اس میں کوئي مشکل نہیں ہے کہ ہم گھوڑے کا گوشت مہیا کرتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں جان سکتے کہ مذبح خانوں سے گوشت جانے کے بعد ان کا کیا ہوتا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش شروع کی گئی ہے کہ آخر ہوا کیا۔ ’ہمارے پاس گوشت کے لیے کاروباری دستاویزات بھی ہیں اور ایک نہیں بہت سے کاغذات ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>