
گوشت پر لیبل لگانے کا معاملہ وزراء کے ایجنڈے سرفہرست ہوگا تاکہ اس کے ماخذ کا پتہ چل سکے
یورپی یونین کے زراعت کے وزراء برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں جہاں وہ گھوڑے کے گوشت کے متعلق حالیہ تنازع پر بات کریں گے۔
اس ملاقات میں گوشت کے ماخذ کے متعلق لیبل لگانے اور اس کی مصنوعات کے سراغ پانے کی اہلیت پر کافی زور رہے گا یعنی کہیں یہ ملاوٹ مذبح خانوں میں تو نہیں ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ بیف میں گھوڑے کےگوشت کی ملاوٹ کا معاملہ گزشتہ ماہ برطانیہ اور آئرلینڈ کے کچھ کھانوں اور برگر میں پایا گیا تھا اس کے بعد سے پورے یورپ کی دکانوں سے ایسے کھانے ہٹا لیے گئے جن میں ملاوٹ کا احتمال تھا۔
برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار اموگن فوکس کا کہنا ہے وزراء سطح کی اس ملاقات کے حقیقی ایجنڈے میں دیہی برادری اور عام ماہی گیری کی پالیسی کو تعاون دینا شامل ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ وزراء گھوڑے کے گوشت کے معاملے کے تدارک کے اقدامات پیش نہیں کریں گے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے اس بات پر تقریبا اتفاق رائے ہے کہ یہ پورے یورپ کا مسئلہ ہے اور اس کے لیے متفقہ طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔
فرانس اور جرمنی کا کہنا ہے کہ گوشت پر لیبل لگایا جانا اور اس کی شروعات تک پہنچنے کا سراغ دینا لازمی ہونا چاہیے۔
برطانیہ کے ماحولیاتی سیکرٹری اوین پیٹرسن نے جمعے کو کہا تھا’جب میں سوموار کو یورپی ممالک کے زراعتی وزراء سے ملاقات میں اس معاملے میں ٹھوس اور باہمی تعاون پر زور دوں گا‘۔

گوشت کا یہ تنازعہ پورے یورپی براعظم پر پھیلا ہوا ہے
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک قابل عمل معاہدہ مشکل نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گوشت کی تجارت میں گھوڑے کے گوشت کا معاملہ پیچیدہ ہے اور سپلائی کے خراب ضابطوں کا نتیجہ ہے۔
کم از کم ایک درجن ممالک گھوڑے کےگوشت کے معاملے میں ملوث پائےگئے ہیں جن میں گوشت کے کچھ بڑے کاروباری شامل ہیں۔
جمعہ کو جرمنی میں صارفین کے معملات سے متعلق کی وزارت نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے گوشت کی830 مصنوعات میں سے 67 میں ملاوٹ پائی گئی۔
آئر لینڈ کے حکام نے جمعے کو کہا تھا کہ انھوں نے ایک گوشت پروسسنگ پلانٹ کو بند کر دیا ہے جب سے بیف کے لیبل والے پیکٹ میں گھوڑے کے گوشت کی ملاوٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔






























