
اسلامی قانون کے تحت جانوروں کو ہاتھ سے ذبح کرنا لازمی ہے
اس کمپنی کا نام ظاہر کر دیا گیا ہے جس نے برطانیہ کی جیلوں کو ایسا حلال کھانا فراہم کیا تھا جس میں سؤر کا ڈی این اے پایا گیا ہے۔
ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میک کلوگن کوالٹی فوڈز لمیٹد نے ’قلیل مقدار میں بڑا گوشت فراہم کیا تھا۔‘
شمالی آئرلینڈ کے اس ادارے کا کہنا ہے کہ وہ غذائی معیار پر نظر رکھنے والے ادارے کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
اس شبے کے بعد کہ حلال گوشت میں گھوڑے کے گوشت کی ملاوٹ ہو سکتی ہے، کمپنی کی پانچ مصنوعات کی جانچ کی گئی تھی۔
غذا فراہم کرنے والی 3663 نامی کمپنی کی ترجمان نے کہا کہ انھیں سؤر کے ڈی این اے کی موجودگی کا سن کر ’صدمہ‘ پہنچا ہے۔
اسلام میں سؤر کا گوشت اور اس کی مصنوعات سختی سے حرام ہیں۔
3663 کی ترجمان نے مزید کہا کہ متاثرہ مصنوعات کو واپس منگوا لیا گیا ہے اور یہ کہ انھیں صرف جیلوں ہی میں فراہم کیا گیا تھا۔
’یہ مصنوعات صرف ایک خوراک بنانے والے ادارے میک کولگن کوالٹی فوڈز کی جانب سے تھیں، اور انھیں کسی دوسرے صارف کو فراہم نہیں کیا گیا۔ اس ادارے کی تمام حلال مصنوعات کو واپس کر دیا گیا ہے۔‘
3663 نے ابتداً کہا تھا کہ ابتدائی ٹیسٹ اس کے بعد کیے گئے جب اس کمپنی کا نام آئرلینڈ کی فوڈ سیفٹی اتھارٹی (ایف ایس اے آئی) کی ایک رپورٹ میں آیا تھا۔ اس سے قبل کچھ برگروں میں گھوڑے کا گوشت پایا گیا تھا۔
"ہمیں اس بات سے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ ان مصنوعات میں سؤر کے گوشت کا آثار پائے گئے ہیں۔"
غذا کی فراہمی کا ادارہ
ادارے نے کہا، ’3663 نے وزارتِ انصاف کی درخواست پر حلال گوشت فراہم کرنے والے ادارے اور ایف ایس اے آئی کی رپورٹ میں درج شدہ حلال برگر فراہم کرنے والے ادارے کے درمیان ممکنہ تعلق شناخت کر لیا۔‘
3663 کا کہنا ہے کہ گھوڑے کا گوشت تو نہیں ملا لیکن ’ہمیں اس بات سے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ ان مصنوعات میں سؤر کے گوشت کا آثار پائے گئے ہیں۔‘
میک کولگن کے ایک ترجمان نے کہا، ’میک کولگن نے پہلے ہی تیزی سے کام کرتے ہوئے جیلوں کو فراہم کیے جانے والی تمام مصنوعات کو الگ کر لیا ہے، جب کہ اس افسوس ناک واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔‘






























