برازیل: مظاہروں کے بعد خاتون سیاستدان کی بکتر بند گاڑی میں رخصتی

ماریا وکٹوریہ بروس

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشن25 سالہ ماریا وکٹوریہ بروس صوبہ پرانا کی رکن اسمبلی ہیں

برازیل کی ایک سیاستدان نے بائیں بازو کے مظاہرین پر اپنی شادی میں آنے والے مہمانوں کے ساتھ جسمانی اور زبانی بدسلوکی کا الزام لگایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا ان لوگوں نے اس لیے کیا کہ ان کا خاندان صدر مائیکل ٹیمر کی حمایت کرتا ہے۔

25 سالہ ماریا وکٹوریہ بروس صوبہ پرانا کی رکن اسمبلی ہیں اور ان کے والد صدر مائیکل ٹیمر کی حکومت میں وزیر صحت ہیں۔

سینکڑوں افراد جمعے کو اس چرچ کے باہر اکٹھا ہو گئے تھے جہاں ماریا وکٹوریہ کی شادی کی تقریب جاری تھی۔

مظاہرین نے ان پر انڈے پھینکے اور ماریا وکٹوریہ کو بکتربند گاڑی میں چرچ چھوڑنا پڑا۔

اس شاہ خرچ شادی میں صوبے کا سیاسی طور پر با اختیار طبقہ شامل تھا جن میں ان کے والد ریکارڈو بروس اور والدہ سیڈا بورغیٹی بھی شامل تھیں۔ خیال رہے کہ ان کی والدہ پرانا کی نائب گورنر ہیں۔

برازیلین کانگریس کے کم از کم 30 افراد کو دارالحکومت برازیلیا سے شادی میں شرکت کے لیے صوبائی دارالحکومت کیوریٹیبا مدعو کیا گیا تھا۔

مظاہرین حکومت مخالف بینرز لیے ہوئے تھے اور ماریا بروس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے جس میں ان پر 'تختہ الٹنے کی سازش کا' الزام لگا رہے تھے۔

نئے شادی شدہ جوڑے اور ان کے مہمانوں کے تحفظ کے لیے بالآخر پولیس کو طلب کرنا پڑا۔

ماریا کے والد (دائیں)

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنماریا کے والد (دائیں) صدر مائیکل ٹیمر کی حکومت میں وزیر صحت ہیں

ماریا بروس نے الزام لگایا کہ یہ مظاہرے ان کی والدہ کے گورنر کے لیے انتخاب میں اترنے کے فیصلے سے منسلک تھا اور اس کو 'بائیں بازو کی جماعتوں اور یونینز کا مالی تعاون حاصل تھا۔'

انھوں نے بعض مہمانوں پر ہونے والے حملے پر افسوس کرتے ہوئے کہا: 'یہ جمہوریت کی قیمت ہے۔'

یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ گذشتہ سال صدر ٹیمر کی پیش رو صدر جیلما روسیف کو عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد برازیل کی سیاست کتنی منقسم اور کشیدہ ہو چکی ہے۔

مواخذے کے مقدمے میں انھوں نے اپنی برطرفی کو دائيں بازو کی جانب سے تختہ الٹنے کی کوشش قرار دیا تھا جسے اس وقت کے نائب صدر ٹیمر کی حمایت حاصل تھی۔

ان کی ورکرز پارٹی کے حامیان سابق صدر لولا دا سلوا کو بدعنوانی کے معاملے میں بدھ کو ساڑھے نوسال کی ‎سزا سنائے جانے سے مزید مشتعل تھے۔

لولا دا سلوا بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور انھوں نے اس کے خلاف اپیل کی ہے۔ لولا سنہ 2011 تک آٹھ سال ملک کے صدر رہے ہیں۔