برازیل: فوجی حکمرانی کے حامی پارلیمنٹ میں گھس گئے

،تصویر کا ذریعہAFP
برازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں درجنوں کی تعداد میں مظاہرین کانگریس کے ایوان زیر میں زبردستی داخل ہوگئے جو ملک میں فوجی بغاوت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بدھ کو کم از کم 40 کے قریب مظاہرین نے گارڈ کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور اجلاس کے آغاز پر ہی دھاوا بول دیا۔
حکومت کی بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انھوں نے فوجی حکومت کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے برازیل میں سنہ 1964 سے سنہ 1985 تک فوجی حکمرانی رہی تھی۔
ریو ڈی جنیرو میں پولیس نے سرکاری ملازمتوں میں کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے ملازمین پر آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔
مظاہرین سکیورٹی گارڈز کو پیچھے دھکیل دیا اور ایک شیشے کا دروازہ توڑ دیا اور پارلیمان کے چیمبر میں داخل ہوگئے جہاں انھوں نے 'جنرل یہاں، جنرل یہاں' کے نعرے لگائے اور قومی ترانہ گایا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کی جانب سے تمام مظاہرین کا گھیراؤ کرنے میں تین گھنٹے لگے اور تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بعدازاں صدر مچل ٹیمر کے ترجمان الیگزینڈر پرولا نے مظاہرے کو 'توہین' قرار دیا اور کہا کہ یہ 'جمہوری اقدار کی خلاف ورزی تھی۔'
ایک کانگریسی نائب بیٹنہو گومیز کا کہنا تھا کہ 'یہ پریشان کن ہے اور اسے تنبیہہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہم شدت پسند کے دور کی جانب واپس جارہے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے سکینڈل اور صدر زلما روسیف کے مواخذے کے بعد برازیلی پارلیمان اور اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی دیکھی گئی ہے۔
صدر زلما روسیف کے نائب صدر تھے اور ڈلما کے جانے کے بعد انھیں صدر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ گذشتہ ہفتے ڈلما روسیف نے عدالت میں دستاویز پیش کی ہیں جس میں صدر ٹیمر پر بھاری رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کی پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ رقوم قانونی طور چندہ مہم کے دوران اکٹھی کی گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خیال رہے کہ برازیل کا شمار لاطینی امریکہ کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جمہوری حکومتوں نے فوجی اقتدار کا تختہ الٹ دیا تھا۔
دوسری جانب ریو ڈی جنیرو میں ریاستی قانون ساز ادارے کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جہاں شہر کے مالی معاملات زیربحث لانے جانے تھے۔
خبررساں ادارے ای ایف پی کے مطابق تقریباً 2000 افراد پر مشتمل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ مظاہرین میں اساتذہ اور نوکریوں سے نکالے گئے پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
عالمی منڈی میں تیل اور تجارتی اشیا کی قیمتوں میں کمی سے ریاست کے مالی معاملات متاثر ہوئے تھے اور رواں سال ریو اولمپکس سے قبل معاشی ہنگامی حالات کا نفاذ کیا گیا تھا۔
بہت سارے سرکاری ملازمین کو کئی ماہ سے تنتخواہ نہیں مل سکی۔







