پیرس: مسجد کے قریب ’ہجوم پر گاڑی چڑھانے کی کوشش‘

پیرس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناخبار لی پیرسین کے مطابق زیرحراست شخص منشیات یا الکحل کے نشے میں نہیں تھا

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے مسجد کے قریب لوگوں پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر 30 منٹ (چار بج کر 30 منٹ جی ایم ٹی وقت) پر مضافاتی علاقے کریٹیل میں پیش آیا اور اس میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

بظاہر مسجد کے باہر لگائی گئی رکاوٹوں کے باعث کوئی نقصان نہیں ہوا۔

اس واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہیں لیکن اخبار لی پیرسین کا کہنا ہے کہ وہ شخص ارمینیائی نژاد باشدہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ پیرس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔

خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں یورپ میں کئی ایسے حملوں ہوئے جس میں گاڑی کو ہجوم سے ٹکرایا گیا، ان میں سے بیشتر کی ذمہ داری دولت اسلامیہ کے ساتھ وفاداری ظاہر کرنے والوں نے قبول کی تھی۔

فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفرانس میں نومبر 2015 میں ہونے والے حملوں کے بعد سے ملک میں ہنگامی حالات نافذ ہیں

پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیرس کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقے میں واقع ایک مسجد کی حفاظت کے لئے لگائے گئے بیریئرز اور بل بورڈز کے ساتھ اس شخص نے 4x4 گاڑی مسلسل ٹکرائی تھی۔

جس کے بعد اس نے گاڑی بھگائی تاہم اس کو جلد ہی گرفتار کر لیا گیا۔

اخبار لی پیرسین کے مطابق وہ شخص منشیات یا الکحل کے نشے میں نہیں تھا۔

خیال رہے کہ فرانس میں نومبر 2015 میں ہونے والے حملوں کے بعد سے ملک میں ہنگامی حالات نافذ ہیں۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔