ریڈ کراس کی یمن کی بندرگاہ تک رسائی کی اپیل

،تصویر کا ذریعہAFP
امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ یمن پر قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے لیکن وہاں جاری لڑائی کی وجہ سے ملک کی ایک اہم بندرگاہ تک امدادی سازوسامان پہنچانا ناممکن ہوگیا ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کو بحیرہ احمر کی حدیداح بندرگاہ تک سامان بھیجنے کا سلسلہ بند کرنا پڑا ہے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سکیورٹی کی ضمانت نہ ملنا ہے۔ اس بندرگاہ کو سعودی اتحادیوں نے بھی نشانہ بنایا جو یمن کی جنگ میں حکومت کا حوثی باغیوں کے مقابلے میں ساتھ دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے بندرگاہ پر نصب پانچ تباہ شدہ کرینز کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔
آئی سی آر سی کے مشرق وسطی کے ڈائریکٹر روبرٹ مردانی نے خبردار کیا ہے کہ یمن جس کی 90 فیصد غذائی ضروریات درآمدات سے پوری ہوتی ہے وہاں اس وقت ذخائرانتہائی کم ہیں اور وہ دن دور نہیں جب یہ مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی کی وجہ سے جانی نقصان اور تباہی کے علاوہ ہزاروں لوگ غذائی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں۔ ملک میں کام کرنے والے 45فیصد طبی مراکز میں چھوٹی موٹی بیماریوں اور چوٹوں کا علاج ناممکن ہونے کی وجہ سے بھی شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق مارچ 2015 میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد 7500 افراد ہلاک جبکہ 40,000 زحمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس وقت 19 ملین افراد کو امداد کی ضرورت ہے جبکہ 70 لاکھ افراد کو یہ نہیں پتہ کہ اُنہیں اگلا کھانا کیسے ملے گا۔ 30 لاکھ سے زیادہ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں جس میں 21 لاکھ بچے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوارڈینیٹر سٹیفن اوبرائن نے دونوں اطراف سے بندرگاہ تک رسائی کی اپیل کی ہے تاکہ غذا، دوائیاں اور ایندھن ضرورتمندوں تک پہنچایا جا سکے۔
فروری کے اوائل میں اقوام متحدہ نے 2.1 بلین ڈالر کی اپیل کی تھی تاکہ اگلے سال تک یمن میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک زندگی بچانے والی انتہائی ضروری امداد پہنچائی جاسکے۔ اب تک اس سلسلے میں صرف چار کروڑ تیں لاکھ ڈالر کی وصولی ہوئی ہے۔









