’سفری پابندی بحال ہوئی تو پھر افراتفری پھیل جائے گی‘

امریکہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں سات مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والوں پر سفری پابندیوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا

امریکہ کی دو ریاستوں کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سات مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے افراد پر لگائی گئی سفری پابندی کو بحال کیا گیا تو ’افراتفری‘ کا عالم دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

ریاست واشنگٹن اور منیسوٹا کے وکلا نے سان فرانسسکو میں ایک وفاقی عدالت سے اس پابندی کو عبوری طور پر معطل کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔

وکلا کی درخواست کو گوگل، فیس بک، اور ایپل جیسے امریکہ کی اہم ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ان کے کاروبار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

پیر اور اس درخواست پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جواب متوقع ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ میں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔

انھوں نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سرحدی حکام کو ہدایت دی کہ وہ امریکہ آنے والے لوگوں کی محتاط طریقے سے جانچ کریں۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس سے پہلے صدر ٹرمپ نے جج جیمز رابرٹ کو مضحکہ خیز کہا اور انہیں نام نہاد جج قرار دیا

انھوں نے کہا ’عدالتیں ہمارا کام مشکل بنا رہی ہیں‘ اور اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج کو اٹھانا پڑے گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔

امریکی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر عائد سفری پابندیاں بحال کرنے کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

سات مسلم اکثریتی ممالک پر سفری پابندیوں و عدالت نے جمعے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایران، عراق، شام، صومالیہ، سوڈان، لیبیا اور یمن کے خلاف سفری پابندیوں والا انتظامی حکم نامہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک اس مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔

اتوار کو صدر ٹرمپ نے عدلیہ کے ساتھ ساتھ جج جیمز رابرٹ پر تنقید کی جنہوں نے اس پابندی کو معطل کیا۔

اپنی ٹویٹس میں صدر ٹرمپ نے کہا ’میں نے ہوم لینڈ سکیورٹی کو ہدایت کی ہے کہ ہمارے ملک میں آنے والے افراد کو محتاط ہو کر جانچ پڑتال کریں۔‘

’یقین نہیں آتا کہ ایک جج نے ملک کو خطرے میں ڈالا ہے۔ اگر کچھ ہوا تو انہیں اور عدالت کو ذمہ دار ٹھہرائیں۔ لوگ ملک میں آ رہے ہیں۔ یہ برا ہے۔‘

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے جج جیمز رابرٹ کو مضحکہ خیز کہا اور انہیں نام نہاد جج قرار دیا تھا۔

اپنی اپیل میں محکمہ انصاف نے کہا تھا کہ کسی بیرونی شخص یا گروہ کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا صدر کے پاس ایسا اختیار ہے جسے نظر ثانی کی ضرورت نہیں اور یہ کہ جمعے کو جج جیمز روبارٹ نے سیئیٹل میں جو فیصلہ سنایا تھا وہ بہت عمومی تھا۔

سفری پابندیوں کو چیلینج کرنے والی دو ریاستوں واشنگٹن اور منی سوٹا کا کہنا ہے کہ یہ پابندی غیر آئینی ہے اور اس میں درست دستاویزات رکھنے والے افراد کو بھی سفر سے روکا گیا ہے۔

مزید کہا گیا کہ اس میں مسلمانوں کو روک کر مذہبی آزادی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ڈیمو کریٹس اور بعض رپبلکنز نے بھی صدر کی جانب سے عدلیہ کو نشانہ بنائے جانے پر تنقید کی ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹرک لیہی نے، جو سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے رکن بھی ہیں، کہا کہ ’لگتا ہے کہ مسٹر ٹرمپ آئینی بحران کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔‘

دوسری جانب سینٹ میں رپبلکن پارٹی کے سربراہ مچ میکونل کے سی این این کو بتایا کہ ’ججوں پر انفرادی تنقید سے پرہیز بہتر ہے۔‘