امریکہ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس کو برطرف کر دیا

سیلی یٹس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسیلی اس بات پر قائل نہیں کہ ایگزیکیٹو آرڈر قانونی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس کو امیگریشن سے متعلق اپنے ایگزیکیٹو آرڈر کی حمایت نہ کرنے پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے احکامات کے تحت سات مسلم اکثریتی ممالک ایران، عراق، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے باشندوں کو اگلے تین ماہ تک امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس حکم کے خلاف امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

سیلی نے محکمہ انصاف کے وکلا سے کہا تھا کہ وہ امیگریشن سے متعلق ٹرمپ کے حکم نامے پر نہ عمل کریں اور نہ ہی اس کی حمایت کریں۔

وائٹ ہاؤس‎ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے محکمے کو ’دھوکا‘ دیا ہے۔

سیلی کی جگہ پر ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف ورجینیا کی اٹارنی ڈینا بوینٹے کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا گيا ہے۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ صدر نے سیلی ایٹس کو ان کے فرائض سے انھیں ہٹا دیا ہے۔

سیلی یئیٹس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ امیگریشن سے متعلق صدر کا حکم نامہ قانون کے مطابق درست ہے۔

انھوں نے لکھا: 'جب تک میں قائم مقام اٹارنی جنرل ہوں اس وقت تک محکمہ انصاف ایگزیکیٹو آرڈر کے دفاع میں کوئی بھی دلیل پیش نہیں کرےگا۔'

لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ایک قانونی حکم نامے، جس کا مقصد امریکی شہریوں کا تحفظ ہے، پر عمل کرنے سے منع کر کے محکمہ انصاف کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔‘

پریس سکریٹری کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ صدر نے سیلی کو ان کے فرائض سے سبکدوش کر دیا ہے۔

قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس کو سابق صدر براک اوباما نے اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔

یاد رہے کہ قائم مقام اٹارنی جنرل کی جگہ صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ اٹارنی جنرل مسٹر جیف سیشنز لیں گے۔

واضح رہے کہ سیلی ایٹس نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والا یہ مراسلہ محکمہ انصاف کے اہلکاروں کو لکھا تھا۔ اس میں درج ہے کہ صدارتی حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

اس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں اس بات کو واضح کروں کہ محکمہ انصاف کی پوزیشن قابلِ دفاع نہیں ہے بلکہ اس سے بھی آگاہ کروں کہ اس قانون کے بارے میں ہمارا کیا نقطہ نظر ہے۔'