آسٹریلیا میں گرفتار نوجوان ’دہشت گردی‘ کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہABC/ JESSICA KIDD
آسٹریلیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز گرفتار کیے جانے والے دو نوجوان نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ سے متاثر ہو کر ایک حملہ کرنے والے تھے۔
16 سالہ ان لڑکوں کو ایک مسجد کے پیچھے سے ایک گلی میں اس وقت پکڑا گیا جب کہ ان کے پاس مینہ طور پر تلوار طرز کی چھریاں تھیں جو انھوں نے ایک روز قبل ہی خریدی تھیں۔
اس کے علاوہ ان کے پاس سے کاغذ پر لکھی دولتِ اسلامیہ سے بیعت بھی برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان لڑکوں کے خلاف دہشتگردی سے متعلق فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان لڑکوں میں سے ایک کے والد بھی دہشت گردی کے ارتکاب میں قصوروار ٹھہرائے جا چکے ہیں۔ تاہم پولیس نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
دونوں لڑکے بچوں کے لیے مخصوص عدالت میں نہ تو پیش ہوئے اور نہ ہی انھوں نے ضمانت کی درخواست دی تھی۔
نیو ساؤتھ ویلز کی ڈپٹی پولیس کمشنر کیتھرن برن نے صحافیوں کو بتایا کہ ان دونوں پر فردِ جرم عائد کریں گے کہ یہ حملہ دولت اسلامیہ سے متاثر ہوکر کیا جانے والا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا تھا: 'ہمارے پاس ایسی کوئی خاص معلومات نہیں ہیں کہ آخر ان کا نشانہ کیا ہوسکتا تھا، ہم الزام عائد کریں گے جو بھی کچھ تھا وہ ایک بڑا حملہ ہوسکتا تھا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی میڈیا کے مطابق یہ گرفتاریاں ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے تحت ہوئی ہیں۔
آسٹریلیا میں وفاقی محکمہ پولیس کے نائب کمشنر مائیک فیلن کا کہنا تھا کہ 'ہم کافی پہلے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ عوامی سلامتی سب سے اہم ہے۔ اگر کسی کو بھی نوجوانوں کے ریڈیکلائزیشن کے متعلق پتہ چلے تو وہ ہمیں اس بارے میں آگاہ کریں۔'
ایک ماہ قبل بھی سڈنی کے جنوب مغربی علاقے میں قتل کی کوشش اور دہشت گردانہ حملے کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد یہ گرفتاریاں ہوئی ہیں۔
ستمبر کے مہینے میں وزیراعظم میلکم ٹرنبول نے، دولت اسلامیہ نے جب اپنے حامیوں سے آسٹریلیا میں حملہ کرنے کے لیے اکسایا تھا، کہا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے حملوں کا حقیقی خطرہ ہے۔







