آسٹریلیا:مشتبہ دہشتگرد گرفتار

آسٹریلوی پولیس
،تصویر کا کیپشنپولیس نے کہا کہ گرفتاریاں سات ماہ کی کارروائی کے بعد عمل میں لائی گئی ہیں

آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پولیس نے فوجی ٹھکانوں پر حملوں کے الزام میں چار لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ خودکش حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔

منگل کی الصبح ہونے والی اس کارروائی میں چار سو پولیس افسروں نے شرکت کی اور شہر بھر میں انیس ٹھکانوں کی تلاشی لی گئی۔ مشکوک افراد میں لبنانی اور صومالی نژاد آسٹریلوی شہر شامل ہیں۔ گرفتار کیے گئے افراد کو منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون روڈ نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ’آج پیش آنے والے واقعات آسٹریلوی قوم کو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کا خطرہ بہت حد تک موجود ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ہمارے سکیورٹی حکام کو ہر وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔‘ .

پولیس نےگرفتار افراد کے بارے میں کہا کہ ان کی عمریں بائیس اور چھبیس سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میلبورن کا ایک گروپ آسٹریلیا میں حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور مبینہ طور پر صومالیہ میں پر تشدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔

انہوں نے گرفتار کیے جانے والے لوگوں آسٹریلیا میں حملے کے حق میں فتویٰ یا کسی عالم سے اجازت چاہ رہے تھے۔

آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے قائم مقام چیف کمشنر ٹونی نیگس نے کہا ان لوگوں کا ارادہ تھا کے فوجی بیرکوں میں داخل ہو کر خود مارے جانے سے پہلے زیادہ سے زیادہ فوجی مار دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آسٹریلوی سرزمین پر دہشت گردی کا سب سے زیادہ سنگین حملہ ہونا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک برائنٹ نے کہا کہ بعض اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران مذکورہ گروپ کے افراد کی سر گرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے خفیہ کیمروں کا استعمال کیا گیا۔ آسٹریلوی کی اطلاعات کے مطابق یہ لوگ حال ہی میں اپنے حامیوں کو تربیت دینے کے لیے صومالیہ بھی گئے تھے۔