شین گوانشین کی امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست

شین گوانشین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشین گوان شین امریکی سفارتخانے سے ایک ہفتے بعد باہر آئے تھے

معروف چینی کارکن شین گوانشین نے امریکہ میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست دی ہے۔ان کی اس اپیل سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان ان کے بارے میں مفاہمت ہوئی ہے۔

شین گوانشین بیجنگ میں امریکی سفارتخانے میں ایک ہفتہ پناہ لینے کے بعد اپنی مرضی سے وہاں سے چلے گئے تھے۔ وہاں سے باہر آنے کے بعد انہون نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جب سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے فرار کے بعد ان کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے تب سے وہ چین میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اس وقت چینی حکومت کے ساتھ بیجنگ میں اہم مذاکرات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے شین گوان کا براہ راست ذکر کیے بغیر کہا کہ چینی حکومت کو اپنے شہریوں کی خواہشات کی قدر کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سرکاری خبررساں اداے ژنوا کے مطابق شین گوان شین نے انہوں اپنے گھر میں نظربندی سے بچنے کے لیے امریکی سفارتخانے میں ایک ہفتہ قبل پناہ حاصل کی تھی۔

فی الوقت وہ بیجنگ کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ ’خوش‘ ہیں اور ’آزاد‘ ہیں۔ ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے چین چھوڑنے کی کوئی درخواست نہیں دی تھی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی جب امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اعلٰی سطح کے مذاکرات کے لیے چین کے دورے پر پہنچی ہیں۔

شین گوانشین کے معاملے کی وجہ سے اعلٰی سطح کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران شام اور تجارت جیسے اہم معاملات کے پس منظر میں جانے کا خطرہ تھا۔

شین گوانشین کے وکیل لی جِنسونگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مؤکل سے فون پر بات کی تھی۔ ان کے بقول شین گوانشین خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام دوستوں سے گلے ملیں۔ ان کے مؤکل نے انہیں بتایا کہ انہیں حقیقی آزادی حاصل ہے، ان کے قانونی حقوق کی پاسداری کی جا رہی ہے اور وہ آزاد شہری ہیں۔

بی بی سی نامہ نگار ڈیمین گریمٹیکس نے شین گوانشین کی اہلیہ سے چیویانگ ہسپتال میں ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے دونوں بچے خیریت سے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ شین گوانشین چین میں ہی قیام کریں گے جہاں ان سے محفوظ مقام مہیّا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

تاہم امریکی یا چینی حکام نے باضابطہ اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی۔

ایک امریکی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا تھا کہ یہ ایک غیرمعمولی معاملہ تھا اور اب ایسا خدشہ نہیں کہ ایسے کسی معاملے کو دہرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ شین گوان شین نے جب سے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کے خلاف مہم شروع کی تھی اس وقت ہی سے مقامی کارکنان اور مغربی ممالک کی نظر ان پر تھی۔

شین گوان شین بچپن میں ہی نابینا ہوگئے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر وکالت کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے کیونکہ چین میں نابیناؤں کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

شین گوان شین حکومت کی ایک بچے والی پالیسی کے سبب ہونے والے استحصال سے متعلق حقائق پیش کرتے رہے ہیں اور صوبۂ شینڈاگ کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہاں کم از کم سات ہزار خواتین کے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کی گئی ہے۔