آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وہ مزیدار کھانے جو انڈیا کی پانچ یہودی برادریوں کو آج بھی متحد رکھے ہوئے ہیں
- مصنف, انیتا راؤ کاشی
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
انڈیا کے شہر کولکتہ میں ہوگلی دریا کے مشرق میں بڑا بازار ہے جس کی تاریخ اٹھارویں صدی تک جاتی ہے۔ یہاں مسالحوں سے لے کر کپڑوں، برقی آلات، محفوظ کیے گئے پرانے دروازوں اور پرانے فرنیچر تک سب ملتا ہے۔
اس انتہائی مصروف سڑک پر میگن ڈیوڈ کلیسا واقع ہے اور اس سے ملحق شہر کی سب سے قدیم عبادت گاہ ’نیو شلوم سینوگاگ‘ (یہودی عبادت گاہ) ہے۔
اس حیرت انگیز عمارت کو 19ویں صدی کے آخر میں اطالوی طرزِ تعمیر کے انداز میں چمکیلی اینٹوں، محرابوں اور برجوں کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔
عمارت کے اندر کا فرش چیک والے ڈیزائن میں بنا ہے جہاں آرائشی ستون، چمکتے فانوس اور شیشے والی کھڑکیاں ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں تاہم یہ عبادت گاہ اکثر ویران رہتی ہے اور یہاں شاید ہی کوئی مذہبی سرگرمی منعقد ہوتی ہو۔
کولکتہ بغدادی یہودیوں کا آبائی علاقہ ہے۔ کسی زمانے میں جہاں پانچ یہودی عبادت گاہیں تھیں اب وہاں 10 یہودیوں کی عبادت کے لیے بھی کافی جگہ موجود نہیں۔
میگن ڈیوڈ اور اس کے قریبی پولاک سٹریٹ پر واقع چھوٹی یہودی عبادت گاہ، ان دونوں کی محفوظ یادگار کے طور پر درجہ بندی کی گئی اور پھر 2017 میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے ان کی تزئین و آرائش کی۔
آج یہ سیاحتی مقامات ہیں اور سیر پر کلکتہ آنے والوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔
ہندوستان میں یہودی آبادی کے کم ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایستھر ڈیوڈ کی حالیہ کتاب ’بون اپیٹیٹ: دی کوزین آف انڈین جیوز‘ ان غائب ہوتی کمیونٹیز کی روایات کو محفوظ رکھنے کی ایک کوشش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیوڈ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ یہودی تقریباً 2000 سال پہلے ہندوستان آئے تھے۔ اس کے بعد سے دو صدی قبل تک دنیا کے مختلف حصوں سے یہودی تارکین وطن کی بڑی تعداد یہاں آتی رہی۔ کچھ اپنے علاقوں میں ظلم و ستم سے بھاگ کر اور کچھ بہتر معاش کی تلاش میں۔
ایک بار جب وہ ساحل پر اترے تو ملک کے مختلف کونوں میں آباد ہو گئے۔
سب سے بڑا گروپ بنی اسرائیل کمیونٹی ممبئی، پونے اور گجرات کے کچھ علاقوں میں پھیل گیا جبکہ مالابار اور کوچن یہودی کیرالہ کی جانب چلے گئے اور بغدادی یہودی کولکتہ میں بس گئے۔
بنی افرائیم یہودی آندھرا پردیش میں مچلی پٹنم، جبکہ بنی میناشے یہودی منی پور اور میزورام میں آباد ہوئے۔
ایک اندازے کے مطابق سنہ 1940 تک 50 ہزار یہودی ہندوستان کو اپنا وطن کہتے تھے لیکن 1950 کی دہائی میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر امیگریشن کی آسانیوں نے اس تعداد کو آہستہ آہستہ کم کر دیا اور ایک اندازے کے مطابق یہاں پانچ ہزار سے بھی کم یہودی باقی رہ گئے۔
جیسا کہ توقع تھی وہ مقامی برادریوں میں ضم ہو گئے اور مقامی زبان کے ساتھ ساتھ کھانوں کو بھی اپنا لیا۔ اس حد تک کہ اب ان میں سے ہر کمیونٹی الگ ہے۔
کوئی بھی دو ایک جیسی زبانیں نہیں بولتے ہیں اور ان کے کھانے بھی بہت حد تک مختلف ہیں۔
تاہم کچھ معاملوں میں انھوں نے اپنی شناخت برقرار رکھی: یہ پانچوں کمیونٹیز عبرانی میں عبادت جاری رکھے ہوئے ہیں اور خوراک کے حوالے سے تمام یہودی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں جس کے مطابق دودھ اور گوشت کو ملا کر اکھٹا پکایا یا کھایا نہیں جا سکتا، سور کا گوشت کھانا منع ہے، ریڑھ کی ہڈی اور کانٹوں کے بغیر والی مچھلی حرام ہے۔
ڈیوڈ کہتی ہیں کہ ’ہندوستانی یہودیوں کے کھانے میں علاقائی اثرات پائے جاتے ہیں، جہاں دنیا کے دوسرے ممالک میں یہودی کھانوں میں عام طور پر گوشت شامل ہوتا ہے وہیں انڈیا میں مچھلی اور چاول ان کی بنیادی خوراک ہیں۔‘
ڈیوڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں بسنے والے یہودی کھانے کا اختتام ناریل کے دودھ میں بنی مٹھائی یا پھل کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ ڈیری مصنوعات کی گوشت کے ساتھ آمیزش نہ ہو سکے۔
’چونکہ حلال گوشت ہمیشہ میسر نہیں ہوتا لہذا بہت سے یہودی سبزی خور بن گئے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’کھانوں کی تراکیب والی کتاب میں گوشت کے متعدد پکوانوں کی فہرست دی گئی ہے لیکن یہ کبھی کبھار، خاص مواقع یا تہواروں پر ہی پکائے جاتے ہیں۔‘
ڈیوڈ کہتی ہیں کہ خود کو علاقے کے ماحول میں ڈھالتے ہوئے یہاں آ کر بسنے والے یہودیوں نے ’چہالا کی جگہ چپاتیوں‘ کا استعمال شروع کر دیا مگر انڈیا کی دیگر برادریوں کے برعکس انھوں نے گوشت کے ساتھ کھانے سے قبل اس روٹی کو گھی میں پکانے یا اس کے اوپر گھی لگانے سے پرہیز کیا۔
اور شبات کی تقریب کے لیے کوشر شراب کی عدم دستیابی کے باعث گھر میں بنے انگور کے رس یا شربت کا استعمال کیا۔
ڈیوڈ کا تعلق بنی اسرائیل یہودی برادری سے ہے اور وہ ایک ایوارڈ یافتہ مصنف اور آرٹسٹ ہیں۔ ڈیوڈ نے اعتراف کیا کہ انھیں کھانے میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں۔
ان کی پچھلی کتاب ’بک آف ریچل‘ میں ایک مرکزی کردار کیب دلچسپی کھانا پکانے کی جانب بڑھتی جاتی ہے اور اس کتاب کا ہر باب یہوی کھانوں کی ایک ترکیب سے شروع ہوتا ہے تاہم انھوں نے کُک بک کے متعلق کبھی نہیں سوچا تھا لیکن علی باغ میں ہونے والی ایک ملاقات نے ان کی سوچ بدل دی۔
جس سے ان کی ملاقات ہوئی ان کے تیار کردہ پکوانوں کی خوشبو اور ذائقہ ڈیوڈ کو اپنے بچپن میں لے گیا اور انھیں بھولی بسری ساری چیزیں یاد آ گئیں۔ اس لیے بون اپیٹیٹ کی پہلی سطر ہے: ’فوڈ از میموری۔‘
یہ بھی پڑھیے
لیکن وہ لمحہ جس میں انھوں نے ہندوستان میں بسنے والے یہودیوں کے کھانوں پر کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا، ان کے گھر سے بہت دور پیرس میں ایک ناول کی اشاعت کے موقع پر پیش آیا۔ وہاں انھوں نے بنی اسرائیل کے یہودی کھانے پکائے اور ہندوستان میں رہنے والے یہودیوں کے کھانوں کو دستاویزی شکل دینے کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔
ملک واپس آ کر انھوں نے ان کمیونٹیز سے رابطہ کیا، ان کے رہائشی علاقوں کا سفر کیا، وہ لوگوں سے ملیں اور ان کی ترکیبیں جمع کیں۔ کووڈ کے وبائی مرض کے دوران انھوں نے آن لائن کام کیا اور ان کی کتاب سنہ 2021 میں شائع ہوئی۔
پانچ برادریوں میں سے ہر ایک کی خوراک کی کہانی میں سب سے اہم موڑ ’تاریخ‘ ہے۔
کولکتہ میں رہنے والے یہودیوں کے کھانوں میں تبدیلی ممکنہ طور پر عراق سے آنے والے یہودی تارکین وطن کے پہنچنے اور ہندوستانی مسالحے دریافت کرنے کے فوراً بعد ہوئی۔
مصنفہ سونل وید کی کتاب ’ہوز سموسہ از اٹ اینی وے‘ میں انھوں نے ’انڈین کھانے کہاں سے آئے ہیں‘ کے متعلق لکھا۔ سونل کہتی ہیں کہ جب سنہ 1800 میں یہ یہودی انڈیا پہنچے تو اس وقت انھیں صرف مرچوں اور لہسن کا علم تھا۔
جب انھیں دیگر مسالحوں کا علم ہوا تو اس نے یہودی کھانوں کو ایک نئی شکل دی جیسے رائس بالز میں گرم مصالحے کا تڑکہ، بیف پین کیک جن پر ہلدی، ادرک اور گرم مصالحے کا چھڑکاؤ کیا جاتا تھا، بطخ کے گوشت سے بنی ڈش جسے بادام، کشمش، املی اور ادرک کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے۔
کیرالہ کے ساحل پر کوچی شہر کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے سے علاقے میٹن چیری میں یہودیوں کی کافی آبادی پائی جاتی ہے، کیفے اور کھانے پینے کی جگہوں سے جڑی چند گلیوں پر مشتمل اس علاقے میں نوادرات، مسالحے اور مقامی دستکاری کی دکانیں ہیں۔
سیناگاگ لین کے آخر میں سترہویں صدی کا ایک ’پردیسی‘ کلیسہ ہے جس کی چھت پر نیلی اور سفید دلکش ٹائلز لگی ہیں، جہاں بلجیئیم سے منگایا فانوس لگا ہے اور تورات کے چار سکرول کے ساتھ ساتھ دیگر یہودی علامتوں والی اشیا موجود ہیں۔
مرطوب ساحلی ہوا میں مسالحوں کی خوشبو آتی ہے، جو کہ کیرالہ میں ہمیشہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ ایک تجارتی برادری کے طور پر مالابار یہودیوں کو ایک موقع نظر آیا اور انھوں نے مسالحوں کی مقامی تجارت پر کنٹرول حاصل کر لیا اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ مالاباری یہودی کھانے آج مسالحوں سے بھرا ہوئے ہیں اور ان میں ناریل کا دودھ (روایتی کیرالہ کے کھانوں کا ایک لازمی حصہ) بھی پایا جاتا ہے، جو یہودیوں کے غذائی قوانین کے مطابق ہے۔
یہاں پر آپ مالابار یہودیوں کو چاول کے ساتھ مچھلی، چکن اور سبزی والے سالن کھاتے دیکھیں گے۔ اس کے علاوہ یہاں مچھلی کوفتہ والا سالن، ناریل میں بنا چکن اور ناریل کے دودھ میں بنی پڈنگ اور دلیہ بھی کھایا جاتا ہے۔
مغربی انڈیا، جو کہ بنی اسرائیلی یہودیوں کا گھر ہے، پر مقامی اثرات بلاشبہ موجود ہیں۔ پوہا (چاولوں کی ایک ڈش) مہاراشٹر میں ایک اہم مقامی کھانا ہے، جسے ناشتے اور سنیکس کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پوہا کو پسے ہوئے ناریل، خشک میوہ جات اور موسمیاتی پھلوں کے ساتھ ملا کر یہودیوں کے تھینکس گیونگ ڈے ملیڈا پر کھایا جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ غیر معمولی پکوان بھی ہیں، جیسے کے چک چا حلوہ، جو بنی اسرائیلی یہودیوں کا خاص میٹھا ہے اور اسے گندم اور ناریل کے دودھ سے بنایا جاتا ہے۔
انڈیا کے مشرقی ساحل پر آندھرا پردیش کے ضلع کرشنا میں مچلی پٹنم بندرگاہ والا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ اس شہر اور چند دیگر قریبی دیہی قصبوں میں بنی ایفرائیم یہودی رہتے ہیں، جن کی آبادی محض 50 افراد پر مشتمل ہے۔
آندھرا کے چٹ پٹے کھانے (انڈیا میں سب سے زیادہ مرچیں آندھرا پردیش میں پیدا کی جاتی ہیں) مقامی یہودی کھانوں میں ڈھل گئے ہیں اور مسالے دار سالن کے ساتھ مقامی آندھرا کے پکوان یہودی روایت میں فٹ ہوتے ہیں، جیسے املی کے چاول، لیموں چاول، بریانی، چکن کے ساتھ گونگورا (گلاب کے پتے) اور چٹنیاں وغیرہ۔
اور انڈیا کے شمال مشرق میں منی پور اور میزورام میں مقامی یہودی چاول پر انحصار کرتے ہیں جسے ناشتے سمیت تمام کھانوں میں کھایا جاتا ہے اور اسے مقامی روایت کے مطابق سرخ یا سبز مرچوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔
مختلف کھانوں کی ان ترکیبوں کے علاوہ ڈیوڈ کی کتاب میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کیسے ہر خطے کے یہودی اپنے تہوار مناتے ہیں اور مقامی کمیونٹیز کے ثقافتی پہلوؤں کو اپنائے ہوئے ہیں جیسے کے مہندی لگانا اور چوڑیاں اور ساڑھیاں پہنا۔
ایک کمیونٹی سے دوسری کمیونٹی تک سفر کرتے ہوئے اور زبان اور جغرافیائی اختلافات کا سامنا کرتے ہوئے، یہ وہی مماثلتیں تھیں جو ڈیوڈ کے سامنے آئیں۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ حیرت انگیز اور دلکش تھا کہ انڈیا کے یہودی اپنے کھانے کی ورثے کی وجہ سے اب بھی متحد ہیں۔