آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنارس: انڈیا کا ’روحانی دارالحکومت‘ جہاں کھانے میں گوشت پیش کرنا برا سمجھا جاتا ہے
- مصنف, امریتا سرکار
- عہدہ, بی بی سی ٹرویل
انڈیا کا وارانسی یعنی بنارس شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جو سنہ 1800 قبل مسیح سے اب تک آباد ہے۔ یہ علاقہ تقریبا سوا دو ارب ہندو مذہب کے پیروکاروں کے لیے بھی مقدس ہے۔
ہر روز جب مندر میں گھنٹیوں کی آوازیں گونجتی ہیں تو ہزاروں عقیدت مند شہر کے 88 گھاٹوں پر آتے ہیں اور اپنے پاپ (گناہ) دھونے کے لیے گنگا میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔
غمزدہ خاندان وارانسی میں دو شمشان گھاٹوں میں آتے ہیں جہاں ہر وقت لاشوں کو جلایا جاتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ بھگوان شیو خود نجات کے گیت ان سب کے کانوں میں گُنگناتے ہیں۔ یہاں جن کی آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں فوری نجات ملتی ہے۔
بہرحال میری وارانسی جانے کی وجہ بالکل مختلف تھی۔ میں وہاں روح کی تسکین یا موت کا سامنا کرنے کے لیے نہیں آئی تھی۔ اس کے بجائے، میں نے شہر کے منفرد سبزی خور کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے وارانسی کا سفر کیا۔
شہر کی بھیڑ بھاڑ والی سڑکوں سے گزرتے ہوئے معروف قصہ گو اور ڈرائیور راکیش گری نے مجھے بتایا کہ ہندو عقائد کے مطابق کس طرح کائنات کو تباہ کرنے والے بھگوان شیو نے قدیم زمانے میں وارانسی کی بنیاد رکھی۔
وارانسی میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کی طرح راکیش گری بھی ایک پرجوش شیو بھگت (شیو کے عقیدت مند) ہیں اور چونکہ شیو کے عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ ان کا دیوتا سبزی خور ہے، اس لیے وہ اور وارانسی کے زیادہ تر لوگ ساتویک (یعنی خالص سبزی خور) کھانا کھاتے ہیں۔
راکیش گری نے کہا کہ ’میں اور میرا خاندان کئی نسلوں سے خالص سبزی خور ہیں۔ انڈے کھانے والوں کے گھروں میں ہم پانی پینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔‘
وارانسی کو انڈیا کا روحانی دارالحکومت کہا جا سکتا ہے لیکن یہ شہر کھانے پینے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے نہیں جانا جاتا۔ جو لوگ کھانے پینے کے شوقین ہیں وہ وارانسی جانے سے پہلے دلی، کولکتہ یا چینئی جیسے ملک کے مشہور فوڈ گڑھ کا دورہ کرنا پسند کرتے ہیں لیکن دنیا بھر کے شیف اب وارانسی کے پکوان (خوان) سے متاثر ہو رہے ہیں اور اپنے ریستورانوں میں ویسا کھانا پکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سبزی خور کھانے کو مالا مال کرنے میں مصروف لوگ
شیف وکاس کھنہ بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں۔ کھنہ کو سنہ 2011 سے 2016 تک ہر سال ’مین ہٹن‘ میں اپنے ریستوراں ’جنون‘ کے لیے ’مشیلین سٹار‘ (اچھی کارکردگی کے لیے دیا جانے والا اعزاز) کا اعزاز ملا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ وارانسی کے ایک مندر میں پیش کی جانے والی ’ورت کے کٹو‘ (ایک پھل کٹو کے آٹے سے تیار کردہ پوا) دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ کھنہ نے سنہ 2020 میں ٹریول میگزین ’لونلی پلانیٹ‘ کو بتایا کہ ’میں نے مین ہٹن میں اپنے کچن میں اسے دوبارہ بنانے کی پوری کوشش کی اور اس کا ذائقہ بے مثال تھا۔‘
دو بار مشیلین سٹار سے نوازے جانے والے شیف اتل کوچر نے لندن میں ایک ماڈرن انڈین ریستوراں کھولا ہے۔ کوچر نے اس کا نام بنارس (وارنسی کا پرانا نام) رکھا۔ اسی نام کی اپنی کک بک میں، انھوں نے سبزی خور فیوژن کی ترکیبوں کے بارے میں لکھا ہے۔
انڈیا کے مشہور شیف سنجیو کپور نے بھی وارانسی کے بہترین سبزی خور پکوانوں کے انتخاب کے بارے میں لکھا ہے۔
یقیناً جس ملک میں 80 فیصد لوگ ہندو ہیں اور 20 فیصد لوگ سبزی خور ہیں وہاں سبزی سے بنا کھانا آسانی سے دستیاب ہے تاہم وارانسی کے ان کھانوں کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اس کی ساتویک اور سبزی خور خصوصیات آیوروید (علم طب اور حکمت) اور روحانیت سے براہ راست متاثر ہیں۔
صرف سبزی خور کھانا ہی کیوں؟
ساتویک کھانا آیوروید کے اصولوں اور سناتن دھرم (ہندو دھرم کا اصلی نام) کی طرف سے تجویز کردہ سبزی خور کے سخت معیارات پر مبنی ہے۔ مثلاً کھانا پکانے میں پیاز اور لہسن کا استعمال ممنوع ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا استعمال غصہ اور جارحیت جیسی بہت سی چیزوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
وارانسی کے مشہور کاشی وشوناتھ مندر کے پجاری ابھیشیک شکلا نے کہا کہ ’وارانسی میں تقریباً ہر ہندو گھر میں شیو کی نذر ایک پنڈت (عالم) ہے اور گھر میں گوشت کھانا ناقابل تصور ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جو لوگ نجات کی تلاش میں ہیں، ان کی ترجیحات میں ساتوک ہونا شامل ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جن کو ہم کھانے کے لیے مارتے ہیں، ہماری روحیں بھی ان کی طرح تکلیف میں ہوں گی۔ گوشت، پیاز اور لہسن کھانے سے انتقامی خصوصیات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے توجہ مرکوز کرنا اور صحیح فیصلے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
روایتی طور پر وارانسی کے بہت سے ریستورانوں میں مغربی سیاحوں اور گوشت کھانے والے ہندو یاتریوں کو نان ویجیٹیرین کھانا پیش کیا جاتا ہے جبکہ مقامی ساتوک کھانے بنیادی طور پر گھر میں کھائے جاتے ہیں۔
سنہ 2019 کا فیصلہ
بہرحال بی جے پی کی ریاستی حکومت نے سنہ 2019 میں ایک فیصلہ کیا جس کے تحت وارانسی میں تمام مندروں اور تاریخی مقامات کے 250 میٹر کے اندر گوشت کی فروخت اور استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔
اس فیصلے نے ریستورانوں کو سبزی والے اور ساتوِک پکوان فروخت کرنے کی ترغیب دی۔ وارانسی کے گھروں میں کئی نسلوں سے اس طرح کے پکوان بنائے جا رہے تھے لیکن وہ پہلے وہاں پہنچنے والے سیاحوں کے لیے دستیاب نہیں تھے۔
دریائے گنگا کے کنارے منشی گھاٹ پر واقع ریت کے پتھر سے بنے پرتعیش ہوٹل برج رام پیلس کے شیف منوج ورما وارانسی کے کھانا پکانے کے اپنے روایتی علم کا استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے پہلی بار کچن سنبھالا تو میں نے فوراً اپنے مینو میں ’کھٹا میٹھا کدو‘ اور ’نیمونا‘ (مصالحہ دار مٹر) جیسی ڈشیں شامل کیں۔ یہ ایسے پکوان ہیں جنھیں اگر نہ کھلایا جائے تو ہمارے مہمانوں کو شاذ و نادر ہی اسے چکھنے کا موقع ملتا ہے۔‘
ورما نے یہ بھی دکھایا کہ نیمونا آخر کیسے بنتا ہے۔ کڑاہی کے گرم تیل میں خوشبودار مصالحے جیسے سادا زیرہ، ہینگ اور ہری مرچ کا مکسچر تیار کرنے کے بعد اس میں ہری مٹر کا بھرتہ اور ابلے ہوئے آلو ڈال کر اسے تیار کیا جاتا ہے اور پھر اسے گھی اور باسمتی چاول کے ساتھ کھانے والوں کو پیش کیا جاتا ہے۔
مٹر کی مٹھاس اور آلو کے ذائقے والی یہ ڈش دراصل وارانسی کی جانب سے اٹلی کے ’کوچینا پوویرا‘ کو ایک جواب ہے۔ یہاں کے نئے باورچی مقامی کسانوں کے کھانے کو نئی بلندیوں پر لے جا رہے ہیں۔
ورما نے بتایا کہ سنہ 2019 میں گوشت پر پابندی نے وارانسی کے باورچیوں کی نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ اگرچہ انھوں نے بہت سے مشہور ہندوستانی اور غیر ملکی مہمانوں کو کھانا کھلایا ہے لیکن انھیں سب سے بڑا موقع اس وقت ہاتھ آیا جب شیف وکاس کھنہ ان کے کھانے کا ذائقہ چکھنے آئے۔ کھانے کے بعد میشلین سٹار شیف نے جھک کر ورما کے پاؤں چھوئے۔ ورما نے بتایا کہ وہ اس لمحے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
نئے ریستوراں تیزی سے کھل رہے ہیں
مقامی لوگوں کے اندازوں کے مطابق وارانسی میں ان دنوں 40 سے 200 کے درمیان ساتوک ریستوراں ہیں۔ سنہ 2019 میں گوشت پر پابندی کے بعد ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایسے ہی نئے کھلنے والے ریستورانوں میں سے ایک ’شری شیواے‘ ہے۔ مقامی مارکیٹ میں دستیاب چیزوں کے لحاظ سے یہاں کا مینو دن میں دو بار تبدیل ہوتا ہے۔
مہینوں کے حساب سے کیے جانے والے تجربے کے بعد یہاں کے تین باورچیوں نے ایک فارمولا تیار کیا۔ اس کے تحت وہ ان پانچ چیزوں کو استعمال کر کے کسی بھی چٹنی یا سالن کے ذائقے کی نقل کرسکتے ہیں۔ ان میں کاجو، خسخس، خربوزے کے بیج، ٹماٹر اور چرونجی شامل ہیں۔
میری پلیٹ میں کڑھی پکوڑے، راجمہ اور پنیر پیش کیے گئے۔ کڑھی میں بھنے ہوئے چنے کے آٹے کا ذائقہ، راجمے کی چٹنی اور پنیر کی تازگی سب کچھ منفرد تھی۔ میں نے ایسا ذائقہ پورے شمالی انڈیا میں کہیں نہیں پایا تھا۔
وارانسی کے سٹریٹ فوڈ بھی منفرد ہیں
دوسری طرف وارانسی میں سٹریٹ فوڈ کی دنیا بنکاک یا استنبول کی طرح فعال اور پرکشش ہے لیکن یہ میڈیا ہائپ سے بہت دور ہیں۔ یہاں بکنے والے بہت سے پکوانوں کی انڈیا میں کہیں اور پائے جانے والے ناشتے سے زیادہ مختلف قسمیں ہیں لیکن انھیں دلی کی چاٹ یا ممبئی کے وڈا پاو جیسی شہرت حاصل نہیں۔
ایسی ہی ایک مثال کاشی چاٹ بھنڈر نامی سٹال پر فروخت ہونے والی ٹماٹر چاٹ کی ہے۔ تیسری نسل کے مالک یش کھیتری نے کہا کہ ’جب ارب پتی صنعتکار لکشمی متل کی بیٹی کی فرانس میں شادی ہوئی تو انھوں نے ہمیں بھی کیٹررز میں سے ایک کے طور پر منتخب کیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کے یہاں ٹماٹر کا بھرتہ زیرے اور چینی کی چاشنی میں ڈبو کر مسالوں کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ اس کے اوپر خاستہ سیو ڈال کر لوگوں کو کھانے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس کی اصل ترکیب یش کھیتری کے دادا نے سنہ 1968 میں تیار کی تھی۔ آج آپ کو یہ وارانسی سے باہر کہیں اور نہیں ملے گا۔
یہاں سبزی خور کھانوں کی ایک اور مثال ’لکشمی چائے والے‘ سٹال پر مٹی کے برتن میں کریم ٹوسٹ کے ساتھ پیش کی جانے والی میٹھی دودھ کی چائے ہے۔ یہاں گرم کوئلوں پر گرل روٹی کے دو سلائسوں کو تازہ کریم کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے اور اس پر چینی ڈالی جاتی ہے۔
وارانسی کا ذکر پان کے بغیر ادھورا ہے
زیادہ تر انڈین جانتے ہیں کہ وارانسی پان کا دارالحکومت ہے۔ اس لیے میں پان کھائے بغیر وارانسی چھوڑنے والی نہیں تھی۔ پان عام طور پر کھانے کے بعد کھایا جاتا ہے کیونکہ یہ ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سانس میں خوشبو بھر دیتا ہے۔
’نیتا جی پان بھنڈار‘ نامی ایک سٹال پر، اس کے بانی کے پوتے اور موجودہ مالک پون چورسیا نے مجھے چاندی کی ایک ٹرے میں مہارت سے تہہ کرتے ہوئے تازہ پان، گلقند، سپاری اور چونے کے ساتھ پیش کیا۔
کاؤنٹر پر ایک اخبار کا تراشہ آویزاں تھا۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ انڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سنہ 1976 میں ان کی دکان پر آئی تھیں۔ اس طویل سفر کا اختتام وارانسی پان سے بہتر کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا۔
حکومت ہند نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا کے بعد نومبر سے بین الاقوامی مسافروں کو ویزے دینا شروع کر دے گا۔
ہر سال عام دنوں میں یہاں لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ روحانی نجات کی تلاش میں یہاں آتے ہیں لیکن میرے جیسے اور بھی ہوں گے جو اس سبزی خور کھانے والی جنت کی طرف راغب ہوں گے۔