آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لوبسٹر اور اوئسٹر غریبوں کے کھانے سے امیروں کا کھانا کیسے بنے
- مصنف, اِزبیل گیرٹسن
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
کسی ریستوران میں لوبسٹر منگوانا یا کسی ضیافت میں پیش کیا جانا میزبان کی کھانے میں اعلی نفاست کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
مگر ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ لوبسٹر کی غذا کے طور پر شروعات عام لوگوں کے کھانے سے ہوئی تھیں مگر رفتہ رفتہ یہ امیروں کے نفیس کھانوں میں شامل ہو گیا۔
اٹھارویں صدی میں لوبسٹر کو انتہائی ناپسندیدہ خوراک سمجھا جاتا تھا اور اُمراء اس سے دور رہتے تھے۔
یہ خولدار مچھلی (بڑا جھینگا) امریکہ کے مشرقی ساحلوں پر اتنی کثرت سے پائی جاتی تھی کہ اسے کھاد بنانے اور جیل میں قیدیوں کو کھلانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ امریکی سیاستدان جان رووان طنزیہ کہتے ہیں کہ ’گھر کے قریب لابسٹر کے چھلکے پائے جانے کو غربت اور انحطاط سمجھا جاتا تھا۔‘
یہ امریکہ میں ریلوے کا نظام تھا جس نے لوبسٹر کو لگژری یعنی مہنگا آئٹم بنا دیا۔ ٹرین چلانے والوں نے دولتمند مسافروں کو، جو لوبسٹر کی شہرت سے نا واقف تھے، کھانے میں اسے پیش کرنا شروع کر دیا۔
ان مسافروں کو لوبسٹر کا ذائقہ اتنا بھایا کہ وہ اسے خرید کر شہروں میں لے آئے جہاں اس نے مہنگے ریستورانوں کے مینیو جگہ بنا لی۔ انیسویں صدی کے اختتام تک لوبسٹر بطور لگژری فوڈ اپنی جگہ پکی کر چکا تھا۔
اس کا تعین کیسے ہوتا ہے کہ کون سی غذائیں لگژری آئٹم ہیں؟ اس بارے میں کمیابی اور قیمت دونوں کا کردار اہم ہے۔
لوبسٹر کی طرح اوئسٹر یا کستورا مچھلی کو بھی نفیس کھانا اور ضیافتوں کی شان سمجھا جاتا ہے، اور اس کا سبب اس کے مہنگے دام ہیں۔ مگر انھیں یہ حیثیت ہمیشہ سے حاصل نہیں رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انیسویں صدی میں اوئسٹر انتہائی مفلس لوگوں کی خوراک سمجھی جاتی تھی۔ غذائی مورخ پولی رسل کہتے ہیں کہ ’یہ اتنے زیادہ اور سستے ہوا کرتی تھے کہ شوربے اور پائی (کچوری) میں اس کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔
بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں حد سے زیادہ ماہیگری اور صنعتی آلودگی کی وجہ سے انگلینڈ میں اوئیسٹر کی کمی واقع ہونا شروع ہوگئی۔ کمی کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھتی چلی گئی اور اسے خاص چیز سمجھا جانے لگا۔
چینی اور سامن مچھلی کے مقابلے میں اس کا معاملہ الٹا ہے جو صرف امیروں کو میسر ہوا کرتی تھی۔ جب لوگوں نے ان کی پیداوار خود شروع کر دی تو ان کی لگژری حیثیت ختم ہوتی چلی گئی۔
کئی سبزیاں اور پھل آج کل کے مقابلے میں بہت کم دستیاب ہوا کرتے تھے۔ بعض پھل جیسا کہ سٹرابیری اور رسبیری صرف گرمیوں میں ملتے تھے، مگر اب تو سارا سال دکانوں پر نظر آتے ہیں۔ اس سے کسی چیز کے لگژری ہونے کا تصور بدل جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیاب اور لگژری غذاؤں کے لیے رغبت کی ہمارے کرۂ ارض کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ جب کوئی مچھلی یا دوسری سمندری خوراک کم ہو جائے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ قیمت میں اضافے سے لوگوں کو ترغیب ملتی ہے کہ وہ اس کا مزید شکار کریں جس کی وجہ سے اس کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی مخصوص ماحول میں مہنگی خوراک کی کشش زیادہ ہو جاتی ہے اور لوگ مہنگے دام دینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگوں میں سوشی (جاپانی خوان) کھانے کی خواہش ساحل سمندر کے مقابلے میں کسی سوشی ریستوران میں کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔
آئندہ کے لگژری کھانے
اگرچہ تاریحی اعتبار سے کافی، چاکلیٹ اور مصالحوں کا شمار لگژری آئٹم میں ہوتا رہا ہے مگر آج ترقی یافتہ ملکوں میں ہر سپر مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
تاہم بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور نا قابل اعتبار بارشیں آنے والی دہائیوں میں یہ سب کچھ پلٹ کر رکھ سکتی ہیں۔
مایا تہذیب کے عروج پر کوکا کے بیج کرنسی کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور کارکنوں کو اجرت دینے اور بازاروں میں خرید و فروخت کے کام آتے تھے۔
سپین کے تاجروں نے کوکا کو یورپ میں متعارف کروایا جہاں یہ شاہی درباروں میں بہت مقبول ہوئے۔
سنہ 1828 میں کیمیا دان کوئنراڈ جوہانیس نے کوکا بینز یا بیجوں کو پانی میں حل کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا۔ اس سے چاکلیٹ کی وسیع پیداوار ممکن ہوگئی اور یہ عام آدمی تک بھی پہنچ گئی۔
کافی ایک زمانے میں ایتھیوپیا کی مذہبی تقریبات کے لیے مخصوص ہوا کرتی تھی۔ پھر 17ویں صدی میں مغربی تاجر اس خوشبودار مشروب کو اپنے ملکوں میں لے گئے جہاں یہ کافی ہاؤسوں میں پیش کی جانے لگی اور ملاحوں، مصروں اور آڑھتیوں کا پسندیدہ مشروب بن گئی۔ ہالینڈ والوں نے اس کے بیج حاصل کرکے کاشت شروع کر دی جس کے بعد یہ ایک عوامی مشروب بن گئی۔
آج خطرہ ہو چلا ہے کہ چاکلیٹ اور کافی پھر سے مہنگے اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں گے۔
یونیورسیٹی آف آکسفرڈ سے وابستہ محقق مونیکا زورک کا کہنا ہے کہ ’کلائمیٹ چینج کی وجہ سے چاکلیٹ اور کاف پھر سے کمیاب اور لگژری فوڈ آئٹم بن سکتے ہیں۔‘
سنہ 2013 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اگر عالمی درجۂ حرارت میں دو ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا تو گھانا اور آئوری کوسٹ کوکا کی پیداوار کے لیے غیر موزوں ہو جائیں گے۔ زورک کا کہنا ہے کہ ’کوکا صرف بادشاہوں کے لیے ہوتا تھا کسی اور کے لیے نہیں۔ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے وہ اراضی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جہاں یہ اگتا ہے۔‘
ہزاروں سال تک مصالحوں کو دولت اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ خوشبودار مصالحوں کی مانگ نے عالمی تجارت کے لیے سب سے پہلے راہیں ہموار کیں اور ایک نئی عالمی معیشت وجود میں آئی۔ آج مصالحے ہر سپر مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ مگر زورک کہتی ہیں کہ یہ سب بدل سکتا ہے اور مصالحے ایک بار پھر لگژری آئٹم بن سکتے ہیں۔
کلائمیٹ چینج مصالحوں کی عالمی پیداوار پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ زیادہ بارشیں اور زمین میں رطوبت کی زیادتی سے مصالحہ دشمن کیڑوں کی پیداوار بڑھ گئی ہے۔ جبکہ کئی علاقوں میں خشک سالی مصالحوں کی کاشت کو متاثر کر رہی ہے۔
گوشت کھانے کی رغبت نہ رہنا
صرف کلائمیٹ چینج کا اثر اور کمی ہی روز مرہ کی غذاؤں کے لگژری آئٹم بننے کا سبب نہیں ہیں۔ لوگوں کی بود و باش اور ذائقے بھی خوراک کی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔
گوشت جو اس وقت عام لوگوں کی خوراک میں شامل ہے اگلے چند عشروں میں لگژری خوراک بن سکتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ فضا میں کاربن کی مقدار کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے کی غرض سے گوشت کی بجائے سبزی والی خوراک کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں عالمی زراعت اور غذائی سلامتی کے محقق پیٹر الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ گوشت کھانا سماجی لحاظ سے غیر مقبول ہو جائے گا جیسا کہ تمباکو نوشی ہے۔
مگر دوسرے ماہرین اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ ان کے مطابق گوشت قومی مزاج کا حصہ اور شناخت ہے۔
ہماری خوراک کی حقیقی لاگت
الیگزینڈر کے مطابق اخراج پر قابو پانے کے لیے ممکن ہے کہ ممالک گوشت کی پیداوار پر ٹیکس عائد کر دیں۔ اس سے گوشت کے دام بڑھیں گے اور اس کا کھانا امیروں کے لیے ہی ممکن ہوگا۔
جانوروں کی فارمنگ 14.5 فیصد عالمی گرین ہاؤس گیسوں کی ذمہ دار ہے جبکہ اس میں سرخ (بڑے) گوشت کا حصہ 41 فیصد ہے۔ بڑے گوشت کی عالمی سطح پر پیداوار کی وجہ سے ہونے والا گیسوں کا اخراج انڈیا کے کل اخراج کے تقریباً مساوی ہے، جبکہ پروٹین والی اشیا جیسا کہ لوبیا کے مقابلے میں گوشت کے فی گرام پروٹین کے لیے 20 فیصد زیادہ زرعی زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق کئی ملکوں میں ’خوراک کی حقیقی پیداواری لاگت اور پرچون قیمت میں تشویشناک حد تک فرق ہے۔‘
نتیجتاً خوراک کی قیمت میں وہ لاگت شامل نہیں کی جاتی جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج، آبی اور فضائی آلودگی اور مسکن کی تباہی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
الیگزینڈر کہتے ہیں کہ جب ہم گوشت کھاتے ہیں تو اس نقصان کی قیمت ادا نہیں کرتے جو اس کی پیداوار کی وجہ سے ماحول کو پہنچا ہے۔
گوشت پر ٹیکس سے ماحول پر پڑنے والے اثرات کی کچھ عکاسی ہو سکتی ہے، مگر یہ سیاسی طور پر بہت زیادہ غیر مقبول ہوگا۔ الیگزینڈر کہتے ہیں کہ ’یہ سب بدل جائے گا جب لوگ یہ سمجھنے لگیں گے کہ ایسا کرنا (گوشت کھانا) پائیداری کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘