آسٹریلیا میں ڈائنوسار دور کے درختوں کو بچانے کی جدوجہد

وولمی صنوبر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآگ بجھانے کے خصوصی مشن نے ان نایاب درختوں اور ان کے ننھے منے پودوں کو آگ کے شعلوں سے تباہ ہونے سے کو بچا لیا
    • مصنف, جیولی ملر
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول کے لیے

سنہ 2019 میں 15 دسمبر کو آسٹریلیا کے صُوبے نیو ساؤتھ ویلز کے کوہِ زرقا (نیلے پہاڑوں) میں آگ بجھانے کی ایک کارروائی بہت تباہی کے بعد اپنے انجام تک پہنچی۔

بے ترتیب اور طوفانی ہوائیں جن کی وجہ سے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔۔۔ گوسپر پہاڑوں پر بجلی گرنے کے بعد شروع ہونے والی تباہ کن جنگل کی آگ جو تین ماہ سے جاری تھی، اُس پر قابو پانے کے لیے بنائی گئی حدوں کو رقص کرتے ہوئے دیہی بستیوں، جنگلی جھاڑیوں، کھیتوں کھلیانوں اور سیب کا باغات کو پھلاندتی ہوئی پھیلتی جا رہی تھی۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا کا ایک بہت ہی قیمتی قومی اثاثہ بھی اس آگ کی زد میں تھا: کوہِ تومہ کے نیلے پہاڑوں میں قدرتی شجر گاہ (بلو ماؤنٹینز بوٹانِک گارڈن)، ایک بہت ہی خوشگوار ٹھنڈی آب و ہوا والا باغ جس میں چھ ہزار سے زیادہ مختلف انواع کے چرند و پرند ہیں۔

جہاں 28 ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی زیرِ کاشت زمین کے علاوہ یونیسکو کی فہرست میں عالمی ورثہ قرار دی جانے والے اس جنگل کا 244 ہیکٹر علاقہ شامل بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فائر بریگیڈ اور نیو ساؤتھ ویلز فائر سروس کی تمام تر دلیرانہ کوششوں کے باوجود اس بوٹانیکل گارڈن کا ایک تہائی حصہ راکھ ہو گیا۔ تاہم اس قدرتی باغ کی قیمتی انواع کو بچا لیا گیا تھا: وولمی قسم کے صنوبر کے درخت، جو کہ کرہ ارض کے ایک قدیم اور بہت ہی نایاب پودے کی ایک قسم ہے جو اب معدوم ہونے کے قریب ہے۔

وولمی قسم کے صنوبر کے پودوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حالیہ دہائیوں میں دریافت ہونے والی چند ایک بہترین نباتات میں سے ایک ہے۔

نیلے پہاڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے نیلے پہاڑوں میں جنگلات کو جنگل کی آگ نے بری طرح تباہ کیا

اسی دوران جب یہ قیامت خیز آگ جسے روکنا ناممکن نظر آرہا تھا اور جس نے اس خطے کی پانچ لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلی جنگلی جھاڑیوں کو راکھ کردیا تھا، اس کے اور ان صنوبر کے درختوں کے درمیان ایک بڑی سی اور گہری گھاٹی میں اُگے جنگلوں میں وولمی نیشنل پارک کھڑا تھا، جو خود بھی آگ کے شعلوں کی زد میں تھا۔

وولمی قسم کے صنوبر کے پودوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حالیہ دہائیوں میں دریافت ہونے والی چند ایک بہترین نباتات میں سے ایک ہے۔

سنہ 1994 میں جب نیشنل پارک کی جنگلی جھاڑیوں میں لگی آگ پھیل رہی تھی، نیو ساؤتھ ویلز نیشنل پارکس اینڈ وائیلڈ فائر کے ایک اہلکار ڈیوڈ نوبل رسی کی مدد سے اس گہری گھاٹی میں اترے اور وہاں انھوں نے مخروطی شکل کے درختوں کے جُھنڈ دیکھے جو کسی اور نوع سے نہیں ملتے تھے، جنھیں انھوں نے یا سائنسدانوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

یہ طویل القامت بارشوں کے جنگلات میں پایا جانے والے درخت کی قِسم، جس کی پھولی پھولی گہری نسواری رنگ کی چھال جس کی کئی شاخیں ہوتی ہیں، دنیا کی نایاب ترین انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس کی نسل، جس کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ اسے معدوم ہوئے بہت وقت گزر چکا ہے، کا تعلق کروڑوں سال قدیم جیوراسِک اور کریٹاسیاس ادوار سے بنتا ہے، یہ وہ دور ہے جب برِّ اعظم آسٹریلیا گونڈوا نامی زمین کے بڑے ٹکڑے سے جدا نہیں ہوا تھا۔

وولمائی نیشنل پارک ایسا خطہ ہے جس میں بے شمار انواع پر ابھی تک تحقیق نہیں ہوئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوولمائی نیشنل پارک ایسا خطہ ہے جس میں بے شمار انواع پر ابھی تک تحقیق نہیں ہوئی اور ان میں سے ایک گھاٹی میں وولمی صنوبر کے درخت دریافت ہوئے تھے

اگرچہ اس درخت کی یہ نوع مشرقی آسٹریلیا میں چار کروڑ برس پہلے تک کثرت سے پائی جاتی تھی، اس قدیم نوع کی واحد باقیات جو اس گہری اور نم گھاٹی میں پائی گئی، حقیقت میں ایک زندہ فوسل۔۔۔ آسٹریلیا کے مسلسل خشک اور گرم ہوتے ہوئے موسم کے اس طویل زمانے میں معجزاتی طور پر بچ گیا ہے اور اس کا اس دور سے ایک نایاب تعلق بنتا ہے جب ڈائناسور ان کے پتوں کو غذا کے طور پر کھاتے تھے۔

قدیم باقیات کی یہ واحد نوع گہری اور نم گھاٹی میں اب تک موجود ہے، دراصل یہ ایک زندہ فوسل ہے۔

درخت کی اس قسم کی دریافت کے بعد سے، جس کے بارے میں سڈنی کی رائل بوٹینِک گارڈن کیرِک چیمبر نے یہ کہا کہ ’اس کی دریافت تقریباً ایسی ہے جیسے کہ ہم اس دور کا ایک چھوٹا سا ڈائنوسار دریافت کرلیا ہو۔‘

صنوبر کے ان درختوں نے کامیاب کاشت اور اس کے مزید پودوں کے اگنے سے نہ صرف آسٹریلیا کی بوٹینِک گارڈن میں بلکہ دنیا بھر میں دوبارہ سے ماحولیات کی تاریخ میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ اسے کئی دنیا کی جگہوں پر نقل مکانی کروا کے کئی جنگلوں میں اگایا گیا ہے تاکہ یہ ایک طویل عرصے تک زندہ رہ سکے۔

وولمی صنوبر کی تعداد بہرحال اتنی کم ہے کہ یہ نوع ابھی بھی معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ ایک مربع کلو میٹر میں سو درخت اس گھاٹی کے پارک کے ایک خفیہ حصے میں اگے ہوئے ہیں اور اب جبکہ اس بات شواہد موجود ہیں کہ یہ درخت ماضی کی جنگلی آگ سے بچ گیا ہے، اِسے حالیہ آگ سے بچانا سب کی اول ترین ترجیح تھا۔

وولمی صنوبر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآج سو کے قریب وولمی صنوبر کے درخت جنگل کے ایک خفیہ خطے میں موجود ہیں

نیو ساؤتھ ویلز نیشنل پارکس اینڈ وائلڈ لائف کے مگڈی علاقے کی مینجر اور صنوبر درختوں کی بحالی کی ٹیم کی ایک رُکن، لیزا مینیک کہتی ہیں کہ ’(اکتوبر میں جنگل کی آگ کے شروع ہونے کے) تین ہفتوں کے بعد ہم نے ان کی حفاظت کے لیے اقدامات پر عملدرآمد کرنا شروع کیا۔ ہمیں ماہرین کی ایک ٹیم دی گئی جن کے ساتھ مل کر ہم نے یہ طے کیا کے ان درختوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا ہے جو کہ آگ کی زد میں تھے۔‘

وولمی صنوبر کے ان درختوں کو زندہ رہنے کے لیے گیلا اور سایہ دار ماحول درکار ہوتا ہے اور کیونکہ یہ پہلے ہی سے خشک سالی کی وجہ سے خطرے میں تھے، اس لیے سب سے پہلا اقدام یہ تھا کہ گھاٹی کی اس دور دراز جگہ پر ایک آبپاشی کا نظام تعمیر کیا گیا۔ اس تعمیر کے لیے اس دور دراز علاقے میں آگ بجھانے والی ٹیم ہیلی کاپٹروں کی مدد سے صنوبر کے درختوں کے خفیہ مقام پر اتاری گئی۔

لیزا مینیک کہتی ہیں ’ہم رورل فائر ورکس کے ساتھ مل کر اس بات کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مزید کون کون وسائل درکار ہوں گے، مثلاً ہوائی جہاز، عملے کی ضروریات، ہیلی کاپٹر سے پانی پہنچانے والی بالٹیاں اور یہ کہ آیا ہوا سے آگ بجھانے والا مائع پھینکنے والے بڑے بڑے ہوائی جہاز۔‘

’ہماری پالیسی یہ ہے کہ اصل جنگلی جگہ پر کسی قسم کا آگ بجھانے والا مائع استعمال نہیں کریں گے لیکن ہم ایسا مائع اصل جگہ سے باہر کے علاقے میں چھڑکیں گے تاکہ پھیلتی ہوئی آگ کی رفتار کو اصل درختوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے سست کیا جاسکے۔‘

آگ بجھانے والا عملہ

،تصویر کا ذریعہRoyal Botanic Garden Sydney

،تصویر کا کیپشنقدیم وولمی صنوبر کے درختوں کو بچانے کے لیے آگ بجھانے کی کوششوں کو ’ماحول کو بچانے کا بے نظیر مشن‘ کہا گیا

بالآخر جنوری کے اختتام تک، کوہِ تومہ کی بوٹینِک گارڈن کے جل جانے کے ایک ماہ بعد، جنگل کی آگ وولمی صنوبر درختوں کے قریب پہنچ گئی اور صنوبر کے کچھ درخت جل کر کوئلہ ہوگئے۔ اُس وقت آگ بجھانے والے مائع کو ان کے قریب پھینکا گیا، جس کا کافی فائدہ ہوا تھا، نقصان کو کم سے کم کردیا گیا۔

رائل بوٹینِک گارڈن سڈنی کی پرنسپل ریسرچر ڈاکٹر کیتھی اوفرڈ کہتی ہیں ’میں کئی راتوں تک سو نہ سکی، آگ کے نقشوں کو دیکھتی رہتی، یہ بہت ہی زیادہ خوفناک حالت تھی۔‘

اوفرڈ جنھوں نے ان صنوبر کے درختوں کا چھبیس برس پہلے دریافت کے زمانے سے مطالعہ کیا ہے، وولمی صنوبر درختوں کی بحالی کی ٹیم کی کلیدی رکن ہیں جو ان کی تحقیق اور انتظامات کے کام کی نگرانی کرتی ہے۔ کئی برسوں کے کام کی وجہ سے ان کی ریسرچ اب معدوم ہونے کے خطرات سے دوچار انواع کو محفوظ رکھنے کے نمونے کے طور پر دنیا بھر میں ایک مثال کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔

وولمی صنوبر درخت اب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار انواع کی حفاظت کی ایک علامت ہے۔

اوفرڈ کہتی ہیں ’ہم اسی قسم کی باتیں دوسرے پودوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں لیکن ان کو اتنی زیادہ شہرت نہیں ملتی ہے۔ وولمی صنوبر درخت اب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار انواع کی حفاظت کی ایک علامت ہے، معدوم ہونے کے خطرات سے دوچاردرختوں کے لیے ایک قسم کا خرسک ہے۔ (خرسک یا کوالا، آسٹریلیا میں پایا جانے والا ریچھ جیسا وہ جانور ہے جس کو معدوم ہونے سے بچایا لیا گیا تھا۔)

وولمی صنوبر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوولمی صنوبر کے بڑے درختوں میں ان کی شاخوں کے آخر پر بُھٹّے نکلتے ہیں، یہ 40 میٹر اونچائی تک جا سکتے ہیں

یہ جانور لوگوں کو معدوم ہونے سے بچائے جانے والے جانور کی ایک ایسی کہانی کی علامت ہے جس نے لوگوں کے تخیل میں جگہ کر لی ہے۔'

نیو ساؤتھ ویلز کے توانائی اور ماحولیات کے وزیر ماٹ کین وولمی صنوبر کے درختوں کو بچائے جانے والی آگ بجھانے کی کوششوں کو ’ماحول کو بچانے کا بے نظیر مشن‘ کہتے ہیں۔ جنوری میں اس کی کامیابی کے بعد اب پھر سے دسمبر میں متاثر ہونے والے کوہِ زرقا (نیلے پہاڑوں) کے جنگلی ماحول میں بلو ماؤنٹین بوٹینِک گارڈن میں قدرتی طور پر اُگے درختوں کو دوسری جگہوں پر اگانے پر مبذول ہو گئی ہے۔

رائل بوٹینِک گارڈن سڈنی کے چیف بوٹانِسٹ، بریٹ سمرل کہتے ہیں ’ہم نےجل جانے والے علاقے میں وولمی صنوبر کے پودوں کو لگانے کا تجربہ کیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہم نے دیکھا کہ ایک وولمی صنوبر کے درخت کے ساتھ کیا ہوتا ہے جب وہ جنگل کی آگ سے جلتا ہے۔ جنگل میں جل جانے والے زیادہ تر درخت ہماری نرسریوں کے تیار کیے ہوئے تھے۔ یہ تقریباً آٹھ برس کے تھے۔ ان میں کچھ پر کونپلیں اور بیج نکلنا شروع ہو گئے تھے۔‘

سمرل کہتے ہیں ’میرا نہیں خیال کہ یہ سارے کے سارے بچ جائیں گے۔ آگ کا چھوٹے چھوٹے پودوں پر زیادہ تباہ کن ہوتا ہے بنسبت بڑے اور پرانے درختوں کے جن میں برداشت اور بچ جانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔‘

آگ سے بچ جانے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر خطرات کی وجہ سے اور عجیب سے جڑیں سڑ جانے والی بو جسے نباتات خور دالچینی کہتے ہیں۔ دوسری جگہ پر اگائے گئے وولمی صنوبر کے درختوں نے سمرل اور اوفرڈ جیسے ریسرچروں کے لیے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں کو وہ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرسکیں۔

وولمی صنوبر

،تصویر کا ذریعہRoyal Botanic Garden Sydney

،تصویر کا کیپشنوولمی صنوبر درخت دیکھنے کے لیے چند ایک جگہوں میں ایک سڈنی کا بوٹینک گارڈن بھی ہے

اوفرڈ کہتی ہیں ’جنگلی انواع کو محفوظ کرنے کی ایک اہم انتظامی سٹریٹیجی یہ ہے کہ ان نباتات کو مزید اگایا جائے، جیسا کہ ایک چڑیا گھر میں کیا جاتا ہے اور پھر ان کو کسی اور علاقے میں اگا کر دیکھا جائے کہ آیا یہ وہاں زندہ رہ سکتے ہیں، اس کام کو معاونت کے ساتھ کی جانے والی ہجرت کہتے ہیں۔‘

نباتات سے پیار کرنے والے اور وہ لوگ جنھیں یہ جاننے کا بہت شوق ہے کہ یہ حیرت انگیز ڈائنوسار درخت کیسا نظر آتا ہے، وہ سب انھیں سڈنی کے تین بوٹینِک گارڈنز اور رائل بوٹینِک گارڈن میلبورن میں جا کر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وولمی صنوبر کے صحت مند درخت برطانیہ کی رائل گارڈن کیو، جو کہ لندن میں ہے، جہاں موسم آسٹریلیا کے جنگلات کی نسبت ٹھنڈا ہے اور زیادہ نمی والا ہے۔

اوفرڈ کہتی ہیں ’میرا خیال ہے کہ یہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ وولمی صنوبر کے درختوں کا اصل موسم ٹھنڈا ہو گا، معتدل علاقہ جس میں بہت زیادہ نمی ہوگی اور سورج کی بہت کم روشنی ہوگی کیونکہ انگلینڈ میں سورج کی کم روشنی ہوتی ہے۔ آسٹریلیا میں سورج کی روشنی بہت زیادہ ہوتی ہے، (لندن میں) یہ ایک لحاظ سے ماہیِ بے آب ہے۔‘

وولمی صنوبر کے درختوں کے دنیا کے کئی خطوں میں کامیابی کے ساتھ لگائے جانے کے بعد اب رائل بوٹینِک گارڈن سڈنی نے عام لوگوں کے لیے ’سیٹیزن سائنس پراجیکٹ‘ کا آغاز کیا ہے جس کا نام ’آئی سپائی اے وولمی پائین‘ (یعنی میں وولمی صنوبر کے درخت کی جاسوسی کروں) تاکہ عام لوگ اس کے جائزے میں حصہ لے کر انھیں فوراً آگاہ کریں جیسے ہی وہ یہ قدیم درخت کسی بھی جگہ دیکھیں۔

اوفرڈ کہتی ہیں ’اس سارے پروگرام میں یہ اس کا اہم جزو ہے کہ لوگ یہ محسوس کریں کہ وہ ان انواع کے محافظ ہیں اور وہ حالات میں بہتری لا سکتے ہیں۔ وہ خود ان باتوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ اب یہ صنوبر کے درختوں سے جڑے قصے کا حصہ ہے۔ یہ ڈائنوسار دور کا درخت ہے جو آج بھی موجود ہے جسے آپ چھو سکتے ہیں اور بڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، اور اسی دوران آپ اس کی حفاظت میں اپنا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔‘

بہرحال فی الوقت نیشنل پارک میں وولمی صنوبر درختوں کی آبادی بہت ہی مختصر ہے اور لوگوں کو نصحیت کی جاتی ہے کہ وہ اس سے فاصلہ رکھیں۔

مینیک کہتی ہیں ’اگر لوگ وولمی صنوبر کے درخت کو دیکھنا چاہتے ہیں تو بوٹینِک گارڈن میں جائیں، ان کو دیکھیں اور ان کی منفرد خصوصیت کے بارے میں جانیں۔ وولمی صنوبر کا درخت واقعی ایک خاص قسم ہے۔ اس کی بہترین حفاظت ہم جنگل میں لگے اس درخت سے زیادہ سے زیادہ دور رہ کر کرسکتے ہیں۔‘