سات صدیاں پرانا درخت جسے تواہم نے بچا رکھا ہے
- مصنف, عفیفہ چوہان
- عہدہ, صحافی، تخت ہزارہ
لاہور سے 180 کلومیٹر دور سرگودھا کے گاؤں موری وال اور ابل کے بالکل درمیان پاکستان کا سب سے بڑا اور پرانا درخت آج بھی موجود ہے۔ یہ درخت ساڑھے تین ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہے اور بلندی سے پورے گاؤں میں نمایاں اور پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق برگد کے اس خاص درخت کی عمر سینکڑوں سال سے زائد ہے جسے کئی سو سال پہلے ایک صوفی بزرگ مرتضیٰ شاہ نے اپنے شاگرد ملنگ بابا روڈھے شاہ کے ساتھ لگایا تھا۔ مرتے وقت بزرگ نے وصیت میں درخت کو روڈھے شاہ کے نام سے بڑھانے کی تلقین کی تھی۔ تب سے اب تک اسے 'روڈھے شاہ کی مائی بوڑھ' کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
برگد کے علاقے میں قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا آپ کسی عجیب و غریب دنیا میں پہنچ گئے ہیں جس میں بے شمار ڈراؤنے، بلند قامت، عفریت نما جانور سر اٹھائے آپ کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے کھڑے ہیں۔ ان عفریتی جڑوں کے کچھ حصوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کی شکل بھی اختیار کر رکھی ہے۔
دراصل برگد کے اس خاص درخت کو منفرد بنانے والی اس کی جڑیں ہیں، جو درخت کی بالائی شاخوں سے پھوٹتی ہیں اور لٹکتی ہوئی برگد کے نچلے حصے کی جانب زمین کو جاتی ہیں۔ زمین سے ملتے ہی یہ جڑیں تناور تنوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، اور جا بجا پھیل کر درخت کو عجیب اور منفرد ساخت دیتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

تین ایکڑ پر پھیلے اس درخت کی نچلی زمین مختلف علاقوں میں تقسیم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ ایک حصے میں مقامی لوگوں نے چارپائیاں ڈال رکھی ہیں۔ لوگ گرم دوپہروں میں درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر آرام کرتے ہیں۔
دوسرے حصے میں قبرستان ہے جس میں مرتضیٰ شاہ اور روڈے شاہ کا مزار ہے۔ مزار کے ساتھ بہت سی دوسری قبریں بھی ہیں جو ان دونوں بزرگوں کے خاندان کے افراد ہیں جو پشت در پشت اس مزار اور درخت کے متولی رہے ہیں۔
ایک حصے میں درخت کے بوسیدہ تنوں کے ساتھ آس پاس کے گھروں نے اپنے گائے، بھینسیں اور گھوڑے باندھ رکھے ہیں۔
مزار کے بائیں ہاتھ دربار کے موجودہ متولی ولایت حسین شاہ کا گھر ہے جو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ یہاں رہتے ہیں۔ درخت کے نیچے باندھے گئے جانوروں میں سے کچھ جانور ان کے بھی ہیں۔
یہی نہیں بہت سے دوسرے گھروں تک اس برگد کی شاخیں اور جڑیں پہنچ چکی ہیں، لیکن وہاں کے مکین ان شاخوں اور درختوں کو کاٹنے سے گریزاں ہیں۔

درخت کی گھنے پتوں میں بھانت بھانت کے پرندوں نے گھونسلے بنا رکھے ہیں، جن کی آوازیں درخت کی سحرناکی میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ قدیم درخت کے تنوں کی چھال پر شوقین مزاج نوجوانوں نے ہزاروں کی تعداد میں نام کندہ کروا رکھے ہیں۔
اس درخت کو دیکھنے کے لیے دور دراز سے لوگ اپنے خاندان، اور احباب کے ساتھ آتے ہیں اور بوڑھے برگد کی قدیم شاخوں کو کیمروں محفوظ کر لیتے ہیں۔
ایسے ہی ایک سیاح نے مجھے بتایا: 'میں منڈی بہاؤ الدین سے آیا ہوں، میرے والد یہاں تخت ہزارہ میں رہتے تھے۔ مجھے انھوں نے بتایا کہ رانجھے کی سر زمین پر پاکستان کا سب سے بڑا اور پرانا برگد ہے سو میں یہاں آ گیا۔ یہاں آ کر محسوس ہوا کہ انہوں نے ٹھیک بتایا تھا، واقعی بہت بڑا درخت ہے، میں اپنے دوستوں کو بھی یہاں لاؤں گا۔'
ایک اور صاحب بہاولپور سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا: 'میں بہاولپور سے بچوں کے ساتھ آیا ہوں۔ اس درخت کے متعلق سنا تھا، آج اس کو دیکھ بھی لیا واقعی بہت بڑا درخت ہے، ایسا درخت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔'
گاؤں کے بزرگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے خاندان کئی نسلوں سے یہاں آباد ہیں اور انھوں نے اس درخت کو اسی حالت میں دیکھا اور صدیوں قبل ان کے آباو اجداد نے بھی اسے ایسے ہی دیکھا ہے اور اب ان کے بچے بھی اس کو ایسے ہی دیکھ رہے ہیں۔ نسلیں گزرتی جاتی ہیں، لیکن یہ برگد آج بھی جوں کا توں ہے۔
تاہم قدامت پسند معاشرے میں رہنے کے باعث مقامی لوگوں نے دربار کے بزرگ اور قدیمی برگد سے متعلق بہت سے توہمات پال رکھی ہیں، جن کے باعث نہ تو وہ اسے کاٹتے ہیں اور اور نہ ہی کوئی اس درخت پر چڑھتا ہے۔ دربار اور درخت کے متولی کے سوائے، کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
درخت کے نیچے بندھی بھینسوں میں سے دو بھینسیں یہاں کے زمیندار نصر اللہ کی بھی ہیں، جو موریوال میں رہائش پذیر ہیں اور بچپن سے ہی درخت کو دیکھتے آئے ہیں۔ وہ بھی اپنے بزرگوں کی بتائی گئی ان توہمات پر یقین رکھتے ہیں۔
'جب بھی کسی نے اس درخت کی کوئی شاخ کاٹی ہے، اسے سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کسی کی کمر ٹوٹ جاتی ہے کوئی مر جاتا ہے، درخت کے فقیر کی بددعا اسے لگ جاتی ہے۔ دور دور تک درخت جس طرف بھی بڑھتا جارہا ہے، لوگ وہ علاقہ چھوڑ دیتے ہیں، لیکن کوئی اسے کاٹتا نہیں، یہ زمین درخت کی ہے۔'

قاری طارق مظہر رانجھا موری وال کے رہائشی ہیں اور ہمیں درخت کے پاس دیکھ کر وہاں پہنچ گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 'ابل اور موریوال کےرہائشیوں نے دونوں دیہاتوں کی مشترکہ زمین بوڑھے درخت کو دے رکھی ہے۔ ایک بار ایک شخص کے گھر کی تعمیر کے دوران درخت کی ایک شاخ آ رہی تھی۔ متولی کے منع کرنے کے باوجود وہ درخت پر چڑھا اور شاخ کاٹنے کی کوش کی۔ شاخ کاٹتے کاٹنے وہ درخت سے گرا اور کمر کی ہڈی ٹوٹنے سے فوری طور پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔'
دوسری جانب درخت اور دربار کے متولی سید ولایت حسین شاہ نے بھی اسی سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا: 'بوڑھ کے اس درخت کو نقصان پہنچانے والے کو ہمیشہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میرا کام لوگوں کو آگاہ کرنا ہے اور میں وہ کرتا ہوں۔ درخت کے پیچھے چار بھائی رہتے تھے۔ ان کے گھر میں برگد کی جڑیں جا پہنچیں، میرے روکنے کے باوجود ان جڑوں کو کاٹا۔ چاروں عمر بھر اولاد رہے اور بے اولاد ہی فوت ہوئے۔ لوگ فقیر کی بددعا سے ڈر کر اس درخت کو کٹنے سے گریز کرتے ہیں۔'
مزار کے متولی نے بتایا کہ لوگ اپنی منتیں مرادیں پوری کروانے کے لیے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں: 'کوئی کاروبار کے لیے، کوئی بیرونِ ملک جانے کی منت لیے ہاں آتا ہے۔ لوگ درخت کے تنے اور ٹہنیوں کے ساتھ منتوں کے دھاگے باندھتے ہیں۔ دعا قبول ہونے کے بعد اپنے منتیں چڑھاتے ہیں اور پھر دھاگے کھول جاتے ہیں۔ درخت کے نیچے محرم الحرام میں مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں قرآن خوانی کی جاتی ہے۔ اس موقعے پر بزرگ کے ماننے والے بڑی تعداد میں وہاں شامل ہوتے ہیں۔'
دربار کا وہ حصہ جہاں فقیر مرتضیٰ شاہ کی قبر ہے، وہاں درخت نے غیر معمولی طور پر اپنی مضبوط جڑوں سے پوری قبر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
متولی نے بتایا: 'بزرگ نے کہا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میری قبر کو پکا نہ کیا جائے۔ برگد کا یہ درخت ہی میری قبر کو پکا کرے گا، اور وہی ہوا۔ پیر کے مرنے کے بعد درخت نے قبر کو اپنی جڑوں کی لپیٹ میں لے لیا۔'
دوسری طرف جی سی یونیورسٹی کے شعبۂ نباتات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر ظہیر الدین خان کا کہنا تھا کہ 'برگد کے درخت کا سائنسی نام فائکیس بینگلینسز ہے اور اکثر اس نوع کے درخت پورے گاوں کی آدھی زمین کو گھیرے ہوتے ہیں، زیر زمین ان کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوتی ہیں، ان کی شاخوں کا نظام بہت وسیع اور پھیلا ہوتا ہے جسے سہارا دینے کے لیے جگہ جگہ سے ان کی جڑیں نکل آتی ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ چونکہ سائز میں بڑا ہونے کے باعث انھیں پانی بھی دوگنا چاہیے، اور زمین سے انھیں مطلوبہ مقدار میں پانی دستیاب نہیں ہو پاتا اس لیے یہ درخت اپنی کچھ جڑوں کوشاخوں سے نکال کے ہوا میں لہرا دیتے ہیں، جس کے بعد جڑیں ہوا سے نمی جذب کر کے بڑھنے لگتی ہیں اور کشش ثقل کی وجہ سے زمین میں دھنس جاتی ہیں اور مزید پانی لیتی ہیں۔ یہ جڑیں شاخوں کے لیے ستونوں کا کام بھی دیتی ہیں۔ برگد کے اس خاص درخت کے اس قدر پھیلنے کی وجہ بھی یہی جڑیں ہیں۔
'یہ درخت قدرتی طور پر زیادہ جگہ گھیرتا ہے، اسی لیے اسے شہر سے باہر لگایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جن جگہوں پر کچھ زیادہ ثقافتی سرگرمیاں نہیں ہوتیں ان کو کاٹ کر سڑکیں بنا دیں گئی ہیں۔ موری وال میں واقع اس درخت کے نیچے بزرگ کی آخری آرام گاہ ہونے کے باعث اس جگہ کو مقدس سمجھتا جاتا ہے اور اسی احترام کی خاطر کاٹنے سے ابھی تک گریز کیا جا رہاہے۔ یہی اس درخت کے بچ جانے کی وجہ بھی ہے۔'
پروفیسر ڈاکٹر ظہیرالدین خان نے بتایا کہ علم نباتات میں پودوں کو ناپید ہونے سے بچانے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جس درخت کو بچانا ہو، اسے کسی مقدس جگہ، جیسے مسجد، مزار یا دربار پر لگا دیا جاتا ہے، اور علم نباتات میں پودوں کے تحفظ کے حوالے سے باقاعدہ ایک مضمون بھی ہے۔'
انھوں نے بتایا کہ جوں جوں درخت بڑھتا ہے، ہر سال اپنے تنے کے ارد گرد ایک دائرہ بناتا ہے۔ کسی بھی درخت کی اصل عمر معلوم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اسے کاٹ کر بیرونی سطح سے اس کے دائرے گنے جائیں۔ جتنے دائرے ہونگے اتنی درخت کی عمر ہوگی۔ مگر اس حالت میں درخت کو کاٹ ڈالنے سے درخت کو نقصان پہنچتا ہے۔
'دوسری صورت کورنگ ہے، اس طریقے سے ایک پیچ دار سلاخ کو گھما کر تنے کے اندرونی حصے تک لے جا کر درخت کا ایک باریک حصہ نکال لیا جاتا ہے، مگر بوڑھ کے اس خاص درخت میں چونکہ لیٹکس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے اسے اس کے دائرے گننا بہت مشکل ہے۔ جبکہ اس کا اصل تنا بھی اب موجود نہ ہونے کے باعث ارد گرد پھیلے جڑنما تنوں اور شاخوں سے اس کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔'
'انھوں نے یہ بھی بتایا کہ برگد کے اس خاص درخت کی عمر چھ سات سو سال سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔'
برگد کے درخت میں پائے جانے والے دودھیا پانی کو لیٹکس کہا جاتا ہے جو خواتین کے ہارمونل سائیکل کی خرابی دور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے خوراک میں کمر کس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ اعصاب کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان میں پایا جانے والا یہ سب سے بڑا برگد دن بھر چہل پہل اور رونقوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ رومان پرور اور قدرت کے شیدائی لوگوں کے لیے یہ درخت باعث کشش ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق انڈیا سمیت دیگر ممالک سے لوگ اس درخت کو بطور خاص دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔
مگر ایک بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات توہمات ہماری قدرت کے بچاؤ میں معاونت کرتے ہیں۔ اس قدیمی درخت سے وابستہ توہمات ہی نے اسے ابھی تک بچا رکھا ہے۔ اگر یہ توہمات نہ ہوتے تو یہ قیمتی ورثہ کب کا کٹ چکا ہوتا۔














